بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قرآن کو قبرستان لے جاکر قبر کے پاس بیٹھ کر تلاوت کرنا


سوال

کیا قرآن کریم کو قبرستان لے جا کر کسی قبر کے پاس بیٹھ کر تلاوت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے مسلمان جو بھی نیک عمل کرے، جیسے تلاوتِ قرآن، درود شریف، نفلی روزہ، نفلی حج، صدقہ و خیرات وغیرہ، اس کا ثواب میت کو پہنچایا جا سکتا ہے۔ شریعت میں اس کے لیے کسی خاص جگہ کی پابندی نہیں ۔لہٰذا کوئی شخص اگر قبرستان میں، کسی قبر کے پاس یااپنے گھر میں، یا کسی اور جگہ پرشرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئےقرآن کریم کی تلاوت کرے اور اس کا ثواب مرحوم کو ایصال کرے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

لہذا صورتِ مسؤلہ میں قبرستان میں قرآن کریم لے جانا اور اسے دیکھ کر تلاوت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ قرآن مجید کی بے ادبی کاکوئی خطرہ نہ ہو۔

 

ولا يكره الجلوس ‌للقراءة ‌على ‌القبر في المختار۔(مراقي الفلاح شرح نورالإيضاح،باب أحكام الجنائز،فصل في زيارة القبور،ص:229)

وإن قرأ القرآن عند القبور إن نوى بذلك أن يؤنسه صوت القرآن فإنه يقرأ وإن لم يقصد ذلك فالله تعالى يسمع قراءة القرآن حيث كانت كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب السادس عشر في زيارةالقبوروقراءةالقرآن في المقابر،ج:5،ص:350)


فتویٰ نمبر : 6585/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں