بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

قرض کو شرط کے ساتھ معلق کرنا


سوال

ہماری کمپنی ملازمین کو بلا سود کے قرضے دیتی ہے گھر بنانے کے لیے گاڑی خریدنے کے لیے، وغیرہ۔ جو لوگ یہ قرضے لیتے ہیں ان سے قرضے کی اصل رقم کے علاوہ ایک اور اضافی رقم کاٹی جاتی ہے جو کہ اگر کوئی قرض لینے والا کمپنی کا ملازم فوت ہو جائے تو اس کے قرضے کی رقم ان تمام قرضے والوں سے وصول کی جاتی ہے۔ اس رقم کو کمپنی کسی اکاؤنٹ میں محفوظ نہیں کرتی بلکہ جب کوئی بندہ فوت ہو جاتا ہے تو کمپنی اس بندے کے قرضے کی رقم اپنی یعنی کمپنی کی طرف سے ادا کر دیتی ہے اور آئندہ عرصے میں باقی جتنے لوگوں نے قرضہ لیا ہے ان پر وہ رقم تقسیم کر کے ان سے وصول کر لیتی ہے۔ چنانچہ جو اضافی رقم قرض لینے والے ملازمین سے لی جاتی ہے وہ مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ ہر سال جتنے لوگ فوت ہو گئے ہوں تو ان کی قرضے کی رقم کے موافق باقی ملازمین سے اضافی رقم لی جاتی ہے۔ جو کم و بیش ہوتی رہتی ہے۔ برائے مہربانی اس مندرجہ بالا صورت میں واضح فرمائیں کہ ایسا قرضہ لینے کی شرعی حیثیت کیا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کو ئی شخص کسی کوقرض پر پیسے دے کر قرضدار سےکسی اضافی چیز لینے کا مطالبہ نہ کرے تو یہ قرض حسنہ شمار ہوگا، اور قرض دینے والا شخص مستحق اجر وثواب ہوگا،نیزاگر کوئی کمپنی اپنے ملازمین کو بلا سود قرضہ کی سہولت فراہم کرتی ہے، تو یہ کمپنی کی جانب سے اپنے ملازمین کے ساتھ احسان  کا معاملہ ہے، لیکن اگر کمپنی نقصان اور خسارہ سے بچنے کے لیے اپنے قرض داروں پر کچھ ایسی شرائط لگادے، جو شریعت کے منافی ہوں، تو ایسی شرائط لگانا شرعاًجائز نہیں۔

صورت مسئولہ میں اگر کمپنی کی انتظامیہ نے خسارہ سے بچنے کے لیے یہ اصول وضع کیاہو کہ فوت شدہ مقروض کا قرضہ دوسرے قرض داروں سے وصول کیا جائے گا تواگرچہ قرض داروں نے باقاعدہ اس بات کو مان لیاہواور قرض کا معاہدہ کرتے وقت اس پردستخط کرچکے ہوں، پھر بھی ان سے اس طرح کی کٹوتی کرنا شرعاً جائز نہیں کیونکہ قرض دہندہ کو قرض کی وجہ سے جو مشروط نفع ملے وہ شرعاً سود کے زمرے میں آکر ناجائز شمار ہوتا ہے۔

اسی طرح یہ معاملہ غرر سے بھی خالی نہیں کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ ملازمین قرض داروں میں سے کتنے مدت قرض کے دوران مریں گے اور ایک قرض دار ملازم کو فوت شدہ ملازمین کے بقایاجات میں سے کتنے اداکرنے ہیں، لہذا اس صورت حال میں ملازمین کےلیے کمپنی سے اس طرح کا بلاسود قرض لینا شرعاً جائزنہیں۔

 

(كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:7، ص:395)

وأماا‌الذي ‌يرجع ‌إلى ‌نفس ‌القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب القرض، فصل في الشروط، ج:10، ص:597)

ولا يجوز بيع السمك قبل أن يصطاد۔۔۔ولا بيع الحمل ولا النتاج" لنهي النبي عليه الصلاة والسلام عن بيع الحبل وحبل الحبلة ولأن فيه غررا.قال: "ولا اللبن في الضرع" للغرر فعساه انتفاخ، ولأنه ينازع في كيفية الحلب، وربما يزداد فيختلط المبيع بغيره. ( الهداية،باب البیع الفاسد،ج:5،ص96،95)


فتویٰ نمبر : 3995/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں