بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نماز میں"إني كنت من الظالمين" کی بجائے"لا إله إلا أنت سبحانك إنا كنا من الظالمين"پڑھنا


سوال

نماز کے دوران امام صاحب نے غلطی سے"إني كنت من الظالمين" کی بجائے"لا إله إلا أنت سبحانك إنا كنا من الظالمين"جمع کے صیغے کے ساتھ پڑھ دیا۔ گزارش ہے کہ کیا اس طرح کے تلفظ یا قراءت کی تبدیلی سے نماز صحیح ہوتی ہے یا اس کےاعادہ (دوبارہ پڑھنے) کی ضرورت ہوگی؟

جواب

 اگر نماز میں قرآن کی تلاوت میں اس طرح غلطی ہوجائے کہ معنی میں تغیر فاحش ہوجائے یعنی ایسا معنی پیدا ہوجائے، جس کا اعتقاد کفر ہو اور نماز میں اس غلطی کی اصلاح  نہ کی جائے، تو نماز فاسد ہوجاتی ہے۔البتہ اگر تغیر فاحش نہ ہو تو نماز فاسد نہیں ہوتی۔

صورت مسئولہ کے مطابق آیت کریمہ :﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: 87]ترجمہ:"تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔"کی جگہ اگر: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنَّا كُنَّا مِنَ الظَّالِمِينَ.ترجمہ: "تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک ہم ہی ظالموں میں سے تھے۔"پڑھاگیاتوچونکہ اس غلطی سے آیت کے معنی میں کوئی تغیر فاحش(بڑی تبدیلی کہ جس کا اعتقاد کفر ہو)واقع نہیں ہواہے،لہذااس سے نماز فاسد نہیں ہوئی۔

 

وإن ‌غير ‌المعنى تغييرا فاحشا بأن قرأ وعصى آدم ربه بنصب الميم ورفع الرب وما أشبه ذلك مما لو تعمد به يكفر. إذا قرأ خطأ فسدت صلاته...الخ. (الفتاوی الهندية،الباب الرابع في صفة الصلاة،الفصل الخامس في زلة القاري، ج:1،ص:81)

لو ‌قرأ ‌في ‌الصلاة ‌بخطأ ‌فاحش ثم رجع وقرأ صحيحا قال عندي صلاته جائزة.(الفتاوى الهندية،الباب الخامس في الإمامة،الفصل الأول في الجماعة،ج:1،ص:82)


فتویٰ نمبر : 10809/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں