بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

معتکف کا غسل جمعہ کے لیے مسجد سے باہر نکلنا


سوال

کیا معتکف کے لیے غسلِ جمعہ کرنے کی غرض سے مسجد سے باہر جانا جائز ہے؟ کیا شرعاً اس مقصد کے لیے مسجد سے نکلنے کی اجازت ہے یا نہیں؟

جواب

اعتکاف کے دوران معتکف کے لیے  طبعی یا شرعی ضرورت کے علاوہ مسجد سے باہر نکلنا جائز نہیں ، غسلِ جمعہ یا غسلِ تبرید (ٹھنڈک حاصل کرنے کا غسل) نہ طبعی ضرورت میں شامل ہے اور نہ ہی شرعی ضرورت میں، لہذا مسنون اعتکاف میں جمعہ کے غسل کے لیے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے باہر نکلنا جائز نہیں،اس سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔

 

(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلًا ونهارًا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى- كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدًا أو ناسيًا، هكذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الهندية،كتاب الصوم، الباب السابع في الاعتكاف، ج:1، ص: 210)

(ومن الأعذار الخروج للغائط والبول، وأداء الجمعة). (الفتاوى الهندية،كتاب الصوم، الباب السابع في الاعتكاف، ج: 1، ص: 212)


فتویٰ نمبر : 10809/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں