بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ کا مصرف


سوال

عشر مسجد مدرسے کے لیے دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ کیا عشر کی رقم سے لوگوں کے لیے کنواں ٹیوب ویل  وغیرہ بنایا جا سکتا ہے؟  یا دوسرے فلاحی کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ عشر کس کو دیا جائے؟

جواب

عشر کا مصرف وہی ہے جو زکات   کا مصرف ہے، اس لیےعشر کی رقم براہِ راست مسجد اور مدرسہ میں دینا درست نہیں، اسی طرح اس سے کنواں و ٹیوب ویل بنوانا یا کوئی فلاحی کام کروانا بھی جائز نہیں، تا ہم اگر کسی غریب مستحق زکوۃشخص کو عشر کی رقم کامالک بنا یاجائے اور وہ خود یہ رقم مسجد و مدرسہ کی تعمیر میں لگائے  یا کسی دوسرے فلاحی کام میں لگائےتو ایسا کرنا جائز ہوگا۔

 

باب المصرف أي مصرف الزكاة والعشر وأما خمس المعدن فمصرفه كالغنائم (هو فقير وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير تام مستغرق في الحاجة (ومسكين من شيء له) على المذهب؛ لقوله تعالى: { أو مسكيناً ذا متربة } [البلد 13] وآية السفينة للترحم (وعامل) يعم الساعي والعاشر (فيعطي) ولو غنياً لا هاشمياً؛ لأنه فرغ نفسه لهذا العمل فيحتاج إلى الكفاية والغني لايمنع من تناولها عند الحاجة كابن السبيل۔(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الزكاة، باب العشر، ج:2، ص:339)


فتویٰ نمبر : 10810/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں