بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

غسل جنابت کے لیےفکس شدہ مصنوعی دانتوں کونکالنا


سوال

اگر کوئی شخص ایسے مصنوعی دانت لگوالے جسے بار بار نکالنا ممکن نہ ہو یا شدید حرج کا باعث ہو، پھر دانت لگوانے کے بعد یاد آئے کہ دانت حالتِ جنابت میں لگوائے تھے، تو کیا اب جنابت سے پاکی حاصل کرنے کے لیے ان مصنوعی دانتوں کو نکال کر اس جگہ کو دھونا لازمی ہوگا جس جگہ مصنوعی دانت لگائے تھے؟ یا  صرف مصنوعی دانتوں کو ہی نکالے بغیر دھونا کافی ہے؟ اگر ان مصنوعی دانتوں کا حکم جبیرہ (پٹی) کی طرح ہے تو یہاں تو زخم نہیں ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فکس شدہ مصنوعی دانت جن کو منہ سے نکالنا دشوار اور باعثِ حرج ہو تو ایسے دانت اصلی دانتوں کے حکم میں ہونے کی وجہ سے جسم کا حصہ شمار ہوتے ہیں، لہٰذا جنابت سے پاکی کے لیے غسل کے دوران ان ہی مصنوعی دانتوں کو دھونا کافی ہے، مصنوعی دانتوں کو نکال کر ان کے اندر کا حصہ دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسے مصنوعی دانت جبیرہ (پٹی) کے حکم میں نہیں ہوتے، بلکہ نکالنے میں مشقت و حرج ہونے کی وجہ سے اصلی دانتوں کے حکم میں ہوجاتے ہیں، لہٰذا جس طرح غسلِ جنابت کے لیے اصلی دانتوں کو دھونا کافی ہوتا ہے اسی طرح ان مصنوعی دانتوں کو دھونا بھی کافی ہوجاتا ہے، خواہ نیچے زخم ہو یا نہ ہو۔

 

(ويجب) أي يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة كأذن و (سرة وشارب وحاجب و) أثناء (لحية) وشعر رأس ولو متبلدا لما في - {فاطهروا} [المائدة: 6]- من المبالغة (وفرج خارج) لأنه كالفم لا داخل؛ لأنه باطن، ولا تدخل أصبعها في قبلها به يفتي.  (لا) يجب (غسل ما فيه حرج كعين) وإن اكتحل بكحل نجس (وثقب انضم و) لا (داخل قلفة)  يندب هو الأصح قاله الكمال، وعلله بالحرج فسقط الإشكال. وفي المسعودي إن أمكن فسخ القلفة بلا مشقة يجب وإلا لا.

(قوله: كعين) لأن في غسلها من الحرج ما لا يخفى؛ لأنها شحم لا تقبل الماء، وقد كف بصر من تكلف له من الصحابة كابن عمر وابن عباس بحر. ومفاده عدم وجوب غسلها على الأعمى خلافًا للحانوتي حيث بناه على أن العلة أنه يورث العمى، ولهذا نقل أبو السعود عن العلامة سري الدين أن العلة الصحيحة كونه يضر وإن لم يورث العمى، فيسقط حتى عن الأعمى اهـ.

(قوله: وإن اكتحل إلخ) الظاهر أنها شرطية، وجوابها محذوف تقديره لا يجب غسلها فهو استئناف لبيان مسألة أخرى؛ لأن الغسل المذكور قبل غسل نجاسة حكمية وهذا غسل نجاسة حقيقية فلا يصح جعل إن وصلية تأمل. (قوله: وثقب انضم) قال في شرح المنية: وإن انضم الثقب بعد نزع القرط وصار بحال إن مر عليه الماء يدخله وإن غفل لا فلا بد من إمراره و لايتكلف لغير الإمرار من إدخال عود ونحوه فإن الحرج مدفوع. اهـ ... أن علة عدم وجوب غسلها الحرج: أي أن الأصل وجوب الغسل إلا أنه سقط للحرج.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطهارة،فرض الغسل،ج:1،ص:152)


فتویٰ نمبر : 10810/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں