بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ کی رقم سے گھرتعمیر کرنا


سوال

اگر ایک بیوہ عورت ہو اور اس کے پاس  رہنے کے لیے گھر نہ ہو تو کوئی صاحب نصاب اس کے لیے  زکوۃ کی رقم سےگھر بنائے تو کیا اس سے زکوۃ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب

 شریعت کی رو سے زکوۃ کی ادائیگی میں بنیادی شرط تملیک( مستحق زکوۃ کومالک بنانا)ہےچاہے زکوۃ نقد رقم کی شکل میں ادا کی جائے یا اشیاء وغیرہ  کا مالک بنایا جائے.

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر بیوہ عورت مستحق زکوۃ ہو  تو زکوۃ کی رقم سے اس کے لئے خالی پلاٹ میں مکان تعمیر کرکے ملکیت میں دینا جائز ہے ۔

 

‌ويشترط‌أ يكون ‌الصرف (‌تمليكا) لا إباحة۔(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الزكاة،باب مصرف الزكاة والعشر،ج:2،ص:256)


فتویٰ نمبر : 10810/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں