بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ملازم کی تنخواہ سے جبری کٹوتی اور اس پر ملنے والی اضافی رقم کا حکم


سوال

ایک شخص ایک پرائیویٹ  کمپنی میں ملازم ہے ،جس کی تنخواہ مثلا 45000 روپے ہے،کمپنی کے اصولوں کے مطابق اس کی تنخواہ سےاس کی مرضی کے بغیر  4000 روپے ماہانہ کٹتے ہیں،اور پھر کمپنی کی جانب سے   اس کے ساتھ اتنی ہی  رقم اس کے علاوہ  جمع ہوجاتی ہے،تو کل ماہانہ  8000 روپے پراویڈنٹ فنڈ کے نام سے جمع ہوتے  ہیں،اور پھر سالانہ کمپنی اس رقم کے ساتھ  30  یا 35 ہزار روپےپرافٹ کے طور پر  اضافی دیتی ہے ،تو کیا  یہ اضافی رقم سود ہے یا نہیں ؟اور اس کا لینا کیسا ہے؟

جواب

حکومت یا نجی کمپنی ملازمین کی تنخواہوں سے اپنے طور پر جس خاص رقم کی کٹوتی کرتی ہے، اور اس جمع شدہ فنڈ کے ساتھ کمپنی اپنی طرف سے کچھ فی صد اضافی رقم بھی دیتی ہے، چونکہ اس کٹوتی میں ملازمین کو اختیار نہیں   ہوتا اس لیے وہ  معذور سمجھے جاتے ہیں۔ چنانچہ اس پر  اضافی رقم ملازم کے لیے لینا حلال ہے اور سود کے زمرہ میں نہیں ، کیوں کہ سود دو آدمیوں کے مابین ایسا عقد ہوتا ہے کہ دونوں کی طرف سے مال ہو اور کسی ایک طرف سے اضافی رقم لینا مشروط ہو ، جبکہ پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم کٹتی ہے، وہ ملازم کی ملک میں نہیں ہوتی، یعنی اس پر ابھی تک مالک کا قبضہ نہیں ہوا ہوتا، لہذا ایسی رقم کے ساتھ کمپنی کا معاملہ یک طرفہ ہے ،اس لیے ملازم کے لیے اصل  جمع شدہ رقم  مع اضافہ  لینا جائز ہے۔

تاہم اگر ملازمین اپنی مرضی و اختیار سے تنخواہ کا ایک خاص حصہ کٹواتے ہوں تو اختتام ملازمت کے وقت اس جمع شدہ رقم کے ساتھ جومزید رقم دی جاتی ہے، وہ شبہ ربا  کی وجہ سے ناجائز ہے ،لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

 

عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى، يوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا إن حمى الله في أرضه محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة: إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب. (الصحيح البخاري ،باب فضل استبرا لدينه، رقم الحدیث: 52، ج:1، ص: 70)

قال رحمه الله (والأجرة لا تملك بالعقد بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن منه)  أي لا تملك الأجرة بنفس العقد سواء كانت الأجرة عينا أو دينا، وإنما تملك بالتعجيل أو بشرط التعجيل أو باستيفاء المعقود عليه وهي المنفعة أو بالتمكن من استيفائه بتسليم العين المستأجرة في المدة.(تبيين الحقائق  شرح كنز الدقائق،كتاب الإجارة،ج:5،ص:106)


فتویٰ نمبر : 3991/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں