بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

منگیتر کے ساتھ زنا سے ٹھہرا ہوا40 دن کا حمل ساقط کرنا


سوال

میری منگنی ہوچکی ہے اور نکاح نہیں ہوا ہے ،میں نے اپنی منگیتر کے ساتھ جماع کیا ہے اور اس کاحمل ٹھہرا ہے جو کہ ابھی 40 دن کا ہے ،تو اب اس حمل کا ساقط کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ منگنی کی حیثیت صرف وعدہ نکاح ہے ،جب تک اس میں  باقاعدہ ایجاب و قبول اور نکاح نہ ہوا ہو،اس لیے منگنی کے بعد بھی دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوں گے ،اور منگیتر کے ساتھ جماع زنا شمار ہوگا،نیز زنا شریعت میں انتہائی مذموم عمل اور حرام ہے، اس لیے  صدق دل سے توبہ واستغفار اور آئندہ  کے لیے اس عمل سے باز رہنے کا پکا عزم کرنا لازم ہے۔زنا کی وجہ سے اگر حمل ٹھہرجائے اور ابھی حمل میں جان نہ پڑی ہو، یعنی چار ماہ  سے  کم  ہو  تو اس حمل  کے ساقط کرنے کی گنجائش ہے۔

لہذا صورت ِ مسئولہ میں  چونکہ زنا سے ٹھہرا ہوا  حمل 40 دن  کا ہے تو اس کو ساقط  کرنے کی گنجائش ہے اور آئندہ  کے لیے توبہ و استغفار کرکے اس عمل سے باز رہنا چاہیے۔

 

قال في النهر: ‌بقي ‌هل ‌يباح ‌الإسقاط ‌بعد ‌الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج.(رد المحتار على الدر المختار ،كتاب النكاح،مطلب  في حكم العزل،ج:3،ص:176)

(قوله:، وفي الخانية. . . إلخ) قال في النهر قال ابن وهبان ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصغير ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا اختلفوا فيه وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية،  قال ابن وهبان: ‌فإباحة ‌الإسقاط ‌محمولة ‌على ‌حالة ‌العذر أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب النكاح ،باب نكاح الرقيق،ج:3،ص:215)


فتویٰ نمبر : 7331/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں