بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

مشترکہ پلاٹ پرایک بھائی کا گھر بنانے کے بعد دوسرے بھائی سے رقم کا مطالبہ کرنا


سوال

ایک گھر میں والدین کے ساتھ دو بیٹے اور ایک بیٹی رہ رہے تھے ،کہ اسی دوران والدہ کے پیسوں پر ایک بیٹا مزدوری کے لیے سعودی عرب چلا گیا،وہ پیسے کما کر گھر بھیجتا رہا اور ان پیسوں سے ایک دوسرے پلاٹ پر جو دونوں بیٹوں کے نام تھا ،گھر کی تعمیر ہوتی رہی اور یہ تعمیراتی کام 1996 ءسے 2000 ء تک  مکمل ہوگئی ،اس وقت کے مطابق اس پر 7 لاکھ روپے خرچہ آگیا،اب والدین فوت ہوچکے ہیں ،اور اس گھر میں  دونوں بھائی رہ رہے ہیں،اب جس بھائی نے  7 لاکھ کا خرچہ  تعمیر پر کیا ہے ، اس کا مطالبہ ہے کہ وہ رقم مجھے رائج الوقت سکہ کے مطابق دیجیئے  اور باقی گھر شریعت کے مطابق تقسیم کریں،تو کیا اس کا یہ مطالبہ درست ہے؟

جواب

واضح  رہے کہ جب دو بندے کسی  مِلک میں شریک ہوں اور ایک شریک نے دوسرے  کی اجازت سے  اس میں تعمیر کیا ہو  تو  تعمیر کرنے والے شریک کے لیے اپنے دوسرے شریک پر اس کے حصے کے مطابق رجوع کا حق حاصل ہے،لیکن اگر تعمیر  کرنے والے نے اپنی مرضی سے دوسرے شریک کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر   تعمیر کی  ہو، تو پھر تعمیر کرنے والا شریک متبرع شمار ہوگا اور اس کے لیے پھر رجوع کا حق حاصل نہیں ہے۔   

صورت مسئولہ میں جس بھائی نے  باہر ملک جاکر  کمائی کی ہے  اور اس سے مشترکہ پلاٹ پر  تعمیر   کی ہے تو اگر یہ اس دوسرے بھائی کے حکم  اور اجازت پر ہوئی ہو تو اس صورت میں اس وقت   جتنا خرچہ تعمیر پر ہوگیا ہے ،وہ  دونوں پر مشترکہ تقسیم ہوگا ،اور اگر اس نے اپنی طرف سے  دوسرے بھائی کی رضا مندی اور اجازت معلوم کیے بغیر  یہ تعمیر کی ہواور گھر بنایا ہو ،تو پھر تعمیر کرنے والا بھائی متبرع (احسان کرنے والا) شمار ہوگا ،لہذا اس کو  دوسرے بھائی  سے رقم کا مطالبہ کرنا جائز  نہیں ہے۔

 

إذا عمر أحد الشريكين الملك المشترك ففي ذلك احتمالات أربعة: الاحتمال الأول - أن يكون المعمر صرف بإذن وأمر الشريك الآخر من ماله قدرا معروفا وعمر الملك المشترك للشركة أو أنشأه مجددا فيكون قسم من التعميرات الواقعة أو البناء ملكا للشريك الآمر ولو لم يشترط الشريك الآمر الرجوع على نفسه بالمصرف بقوله: اصرف وأنا أدفع لك حصتي من المصرف. وللشريك المأمور الذي عمر الرجوع على شريكه بحصته أي بقدر ما أصاب حصته من المصرف بقدر .... مثال للقابل للقسمة: لو كانت دار كبيرة مشتركة بين اثنين وكانت محتاجة للتعمير فقال أحد الشريكين للآخر: عمرها من مالك فعمر الشريك فله من الشريك الآخر ما يصيب حصته من نفقات التعمير. الاحتمال الثاني - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك للشركة بدون إذن الشريك كان متبرعا كما سيبين في المادة (1131) .(دررالحكام في شرح مجلة الأحكام،الكتاب العاشر الشركات،الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة،ج:3،ص:315)

المادة (1311) - (إذا عمر أحد الملك المشترك من نفسه أي بدون إذن من شريكه أو القاضي يكون متبرعا أي ليس له أن يأخذ من شريكه مقدار ما أصاب حصته من المصرف سواء كان ذلك الملك قابلا للقسمة أو لم يكن) إذا عمر أحد الملك المشترك من نفسه أي بدون أخذ إذن من شريكه أو القاضي على الوجه المبين في المواد (1310 و 1313 و 1315) يكون متبرعا أي ليس للشريك المعمر أن يأخذ من شريكه مقدار ما أصاب حصته من المصرف سواء كان ذلك الملك المشترك قابلا للقسمة أو لم يكن... ويكون معنى عبارة " من نفسه " الواردة في المجلة في هذه المسألة أن يعمر الملك المشترك بدون إذن شريكه وعليه فيكون ذلك فيما لو لم يراجع شريكه مطلقا أو راجعه ولم يرض شريكه بالتعمير أي لم يأذنه بالتعمير ويكون في الحالتين متبرعا.(دررالحكام في شرح مجلة الأحكام،الكتاب العاشر الشركات،الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة،ج:3،ص:316)


فتویٰ نمبر : 3978/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں