بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اپنی جائز نوکری کے لیے پیسے دینا


سوال

ایک شخص نے سکول کی ٹیچری کےلیے ٹیسٹ دیا تھا ،جو کہ پاس ہوگیا ہے اور انٹرویو بھی ہوچکی ہے ،لیکن محکمہ تعلیم والے اب ان سے 7 لاکھ روپے مانگ رہے ہیں،تو کیا اپنی ہی سیٹ کے لیے رقم دینا جائز ہے یا نہیں ؟ اور اگر دے دی جائے تو اس نوکری  اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ کا کیاحکم ہوگا

جواب

واضح رہے کہ پیسے دے کر نوکری حاصل کرنا حرام ہے اور یہ رشوت کے زمرے میں آتا ہے ،اور  رشوت  لینےاور دینے  والے  پر رسولِ اکرم  ﷺ نے لعنت  فرمائی ہے، چنانچہ رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں،اس  لیے حتی  الامکان  رشوت  کے لین دین سے  بچنا   ضروری  ہے، البتہ اگر کوئی  جائز  کام تمام لازمی تقاضوں کو پورا کرنے اور حق ثابت ہونےکے باوجود صرف رشوت نہ دینے کی وجہ سے  نہ ہورہا ہو تو ایسی صورت میں حق دار شخص کو چاہیے کہ اولاً وہ اپنی پوری کوشش کرے کہ رشوت دیئےبغیر کسی طرح اس کا کام ہوجائے،اور جب تک کام نہ ہو اس وقت تک صبر کرے لیکن اگر  ضرورت ہو اورکوئی دوسرا متبادل راستہ نہ ہو تو جائز حق کی وصولی کے  لیے مجبوراً  رشوت دینے کی گنجائش ہے اس صورت میں  دینے والا گناہ گار نہ ہوگا، البتہ رشوت لینے والے شخص کے حق میں رشوت کی وہ رقم بہرحال ناجائز وحرام ر ہے گی ۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد اگر یہ پیسے محض رشوت کی غرض سے لیے جاتے ہوں تو اگر اس شخص میں مذکورہ  ملازمت کی استعداد موجود ہو اور وہ اپنی ذمہ داری اچھی طرح اداکرسکتا ہواور اس سے کسی دوسرے حق دار کا حق متاثر نہ ہوتا ہو تو اس کے لیےپیسے دیکر  ملازمت  حاصل  کرنے کی گنجائش ہے اور تنخواہ لینا بھی جائز ہے،کیونکہ  وہ تنخواہ  نوکری اور محنت کے عوض  دی جاتی  ہے۔البتہ رشوت دینے پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور توبہ کرے۔

 

عن عبد الله بن عمرو قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشى والمرتشى.(سنن أبي داؤد، كتاب القضاء، باب كراهية الرشوة، ج:2،ص:148)

 لا بأس بالرشوة إذا خاف على دينه والنبي عليه الصلاة والسلام .كان يعطي الشعراء ولمن يخاف لسانه.قال ابن عابدین:دفع المال للسلطان الجائرلدفع الظّلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له لیس برشوۃ.(ردّ المحتارعلی الدّرالمختار،کتاب الحظروالإباحة،باب الاستبراءوغیرہ،ج:9،ص:607)

إذا دفع الرشوة خوفا على نفسه أوماله، فهو حرام على الآخذ غير حرام على الدافع.(شرح المجلة لخالد الأتاسي، الكتاب السادس عشر في القضاء الفصل الثاني، مادة:1796، ج:6، ص:40)

لو اضطر إلى دفع الرشوة لإحياء حقه جاز له الدفع وحرم على القابض.(رد المحتار علی الدر المختار، ‌‌كتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج:5،ص:72)


فتویٰ نمبر : 6552/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں