بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گاؤں شمشی خیل میں نماز جمعہ کی ادائیگی


سوال

گاؤں شمشی خیل  کی آبادی تقریبا تین ہزار ہے،اس گاؤں میں ایک میڈیکل سٹور ،پانچ عام دکانیں ،ایک چکی اور ڈیڑھ کلو میٹر فاصلے پر ایک آٹا مل اور دو چیک پوسٹ ہیں ،سڑک بھی پختہ ہے ،بازار قریب ہے جہاں 15 منٹ گاڑی میں لگتے ہیں،اور وہاں ضرورت کے تمام اشیاء موجود ہیں، اس گاؤں میں تقریبا چھ سات سال سے نماز جمعہ ادا کی جارہی ہے،لیکن اس پر لوگوں میں تا حال اختلاف موجود ہے،شریعت مطہرہ کی رو سے اس گاؤں میں جمعہ کی ادائیگی کا کیا حکم ہے؟

جواب

نماز جمعہ کے  وجوب  کے لیے فقہائے کرام کی  وضع کردہ شرائط میں سے  ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ شہری آبادی ہو ،یا شہری آبادی کے متصل ایسی آبادی ہو جہاں شہر کی طرح زندگی کی تمام تر سہولیات میسر ہوں، اسی طرح اُس بڑے گاؤں کو بھی شہر کے حکم میں شمار کیا جائے گا ،جو آبادی کے لحاظ سے دو ڈھائی ہزار لوگوں پر مشتمل ہو، اور وہاں لوگوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات  بآسانی مل جاتی ہوں،نیز جس علاقے میں پہلے سے جمعہ کی نماز ہورہی ہو اور اس کے بند کرنے سے  علاقے میں انتشار پھیل جانے کا خطرہ ہو  توا س کو اپنے حال پر جاری رکھنا چاہیے۔

صورت مسئولہ کے مطابق گاؤں شمشی خیل کی آبادی اگر تین  ہزار ہو،اور زندگی کی سہولیات بھی بآسانی مل سکتی ہوں ،تو یہ بڑے گاؤں کے حکم میں ہوکراس میں جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز ہے،نیز جب یہاں نماز جمعہ شروع ہے تو اس کو اپنے حال پرجاری رکھنا چاہے۔

 

وفي حد المصر أقوال كثيرة اختاروا منها قولين: أحدهما ما في المختصر ثانيهما ما عزوه لأبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث قال في البدائع، وهو الأصح وتبعه الشارح، وهو أخص مما في المختصر.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب الصلاة،باب صلاة الجمعة،ج:2،ص:152)

(قوله وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني ‌تقع ‌فرضا ‌في ‌القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة،باب الجمعة،ج:2،ص:138)


فتویٰ نمبر : 10807/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں