بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
نماز میں لحن جلی کا حکم
سوال
نمازمیں لحن جلی کاکیاحکم ہے؟ نیزدرج ذیل غلطیاں لحن جلی ہیں یالحن خفی؟1-"سمع اللہ لمن حمدہ"کو"سمی اللہ"(ع کی جگہ ی )پڑھنا۔
2-"صدق"کو"سدک"،"خلقك"كوخلكك(ص كو س،ق كوك)،ولاسواعا(سورہ نوح )كو"سعاوا"یعنی "ع "کو "و"اور "و"کو" ع "پڑھنا؟
جواب
واضح رہےکہ تجویدکےماہرین كےہاں لحن جلی ظاہراورواضح خطاکوکہتےہیں اس كی چندصورتیں ہیں:1-حروف میں تبدیلی یعنی ایک حرف کودوسرےسےتبدیل کرناجیسے:سین کوزکےسےتبدیل کرناجیسے:مسجد کو مزجد پڑھنا ۔ 2-ایک کلمہ کودوسرےکلمہ سےتبدیل کرناجیسے:والله عليم حكيم کووالله عزيز حكيم پڑھنا۔ 3-حرکات وسکنات میں تبدیلی کرناجیسے: سورہ فاتحہ میں أ َنْعَمْتَ کو انعمتُ پڑھناجب کہ فقہاءکرام کےہاں فسادصلاۃکےسلسلےمیں لحن جلی اورلحن خفی کی اصطلاح نہیں،یعنی فقہاءکرام ہرلحن جلی کی وجہ سےنمازفاسدقرارنہیں دیتے،کیونکہ عوام بالخصوص عجم کےلیےمخارج وصفات کی تمیزمشکل ہوتی ہے،اس لیےفقہاءکرام نےاس میں وسعت کاقول اختیارکیاہے، چنانچہ لحن جلی کی بجائےنمازکےفساداورعدم فسادکا حکم معنی کی تبدیلی پرلگاتےہیں،یعنی نمازپڑھتےوقت اگرقراءت میں ایسی غلطی ہوجائےکہ معنی میں تغیرفاحش پیداہوجائے،تونمازفاسدہوجائےگی اوراگرمعنی میں تغیرفاحش نہ ہوتونمازفاسدنہ ہوگی۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ غلطیاں تجویدکےماہرین کےہاں لحن جلی ہیں،البتہ ان سےنمازفاسدنہ ہوگی،کیونکہ"سمع اللہ لمن حمدہ"کو"سمی اللہ"(ع کی جگہ ی)پڑھنےمیں"سمی"کےلغوی معنی"بلندوبالا"كےآتےہیں،اس لیےمعنی میں تغیرفاحش نہ ہونےکی وجہ سےنمازفاسدنہ ہوگی۔اورصدق کی بجائےسدک (ص کوس)اور (ق کو ک )پڑھنااگربوجہ ناواقفیت یاعدم التمیزکےہو،تو چونکہ"ص اورس"متحدالمخرج اور"ق اور ک"قریب المخرج ہیں،اس لیےعموم بلوی کی وجہ سےنمازفاسدنہ ہوگی،اسی طرح خلقك كوخلكك(ق كوك)پڑھنااگربوجہ ناواقفیت یاعدم التمیزکےہوتوچونکہ "ق اورک"قریب المخرج ہے اس لیےعموم بلوی کی وجہ سےنمازفاسدنہ ہوگی،جب کہ ولاسواعامیں"سواع ایک بت کا نام ہے" اس كو"سعاوا" یعنی"ع" کو" و" اور"و"کو"ع" پڑھنےميں ايك لفظ كودوسری لفظ سےتبدیل کیاہے،تاہم معنی میں تغیرفاحش نہ ہونےکی وجہ سےنمازفاسد نہ ہوگی۔
ومنها:ذکرکلمة مکان کلمةعلی وجه البدل إن کانت الکلمة التي قرأهامکان کلمة یقرب معناهاوهي في القرآن لاتفسدصلاته، نحوإن قرأمکان العلیم الحکیم…وإن کان في القرآن،ولکن لاتتقاربان في المعنی نحوإن قرأ: "وعداًعلیناإناکناغافلین" مکان"فاعلین" ونحوه مما لواعتقده یکفرتفسدعندعامةمشایخنا، وهوالصحیح من مذهب أبي یوسف رحمه الله تعالی، هکذا في الخلاصة. (الفتاوی الھندیة، کتاب الصلاۃ، الفصل الخامس: في زلۃ القاری، ج:1، ص:137)
ولوزادكلمةً أونقص كلمةً أونقص حرفاً، أوقدمه أوبدله بآخرنحومن ثمره إذاأثمرواستحصد-تعالى جد ربنا-انفرجت بدل-انفجرت-إياب بدل-أواب-لم تفسدمالم يتغيرالمعنى إلا مايشق تمييزه كالضادوالظاء فأكثرهم لم يفسدها.قوله:( أو بدل بآخر)هذاإماأن يكون عجزاًكالألثغ وقدمناحكمه في باب الإمامة، وإماأن يكون خطأً، وحينئذفإذالم يغيرالمعنى، فإن كان مثله في القرآن نحو(إن المسلمون) لايفسد، وإلانحو(قيامين بالقسط)، وكمثال الشارح لاتفسدعندهما، وتفسدعندأبي يوسف، وإن غيرفسدت عندهما؛وعندأبي يوسف إن لم يكن مثله في القرآن، فلوقرأ(أصحاب الشعير) بالشين المعجمة فسدت اتفاقاوتمامه في الفتح قوله:(نحومن ثمره إلخ)لف ونشرمرتب قوله:(إلا ما يشق إلخ)قال في الخانيةوالخلاصة: الأصل فيما إذاذكرحرفاًمكان حرف وغيرالمعنى إن أمكن الفصل بينهمابلامشقةتفسد، وإلايمكن إلابمشقةكالظاءمع الضادالمعجمتين والصادمع السين المهملتين والطاءمع التاءقال أكثرهم: لاتفسد اهـ . وفي خزانة الأكمل: قال القاضي أبو عاصم: إن تعمد ذلك تفسد، وإن جرى على لسانه أو لايعرف التمييز لاتفسد، وهو المختار. حلية. وفي البزازية:وهوأعدل الأقاويل، وهو المختار اھ . وفي التتارخانية عن الحاوي: حكى عن الصفار أنه كان يقول: الخطأ إذا دخل في الحروف لايفسد؛ لأن فيه بلوى عامة الناس لأنهم لايقيمون الحروف إلا بمشقة اهـ . وفيها: إذا لم يكن بين الحرفين اتحاد المخرج ولا قربه إلا أن فيه بلوى العامة كالذال مكان الصاد أو الزاي المحض مكان الذال والظاء مكان الضاد لاتفسد عند بعض المشايخ. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب مايفسدالصلاةومايكره فيھا، مطلب: إذا قرأقوله-تعالى جدك-بدون ألف لا تفسد، ج:2، ص:393/394)
(السمي) المسامي وهو المطاول والمفاخر وسمي الشيء موافقه في اسمه أونظيره. (المعجم الوسيط، باب السين، ص:478)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں