بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مانع حمل دوائی کی وجہ سے ہر پانچ دن کے بعد خون آنا


سوال

حمل بند کرنے کے لیے کوئی مانع حمل انجکشن یا گولی استعمال کرنا جس کی وجہ سے عورتوں کو غیر معمولی خون آنا شروع ہوجاتاہے اور وہ ہر پانچ یا دس دن بعد آتاہے اب سوال یہ ہے کہ یہ خون حیض شمار ہوگا یا استحاذہ ؟

جواب

جاننا چاہیے کہ حیض کی اقل مدت (تین  دن) سے کم اورا کثر مدت (دس دن ) سے زیادہ  اسی طرح  نفاس کی اکثر مدت (چالیس دن ) سے زیادہ جو خون آئے وہ استحاضہ شمار ہوگا۔نیز حیض ونفاس کی عادت سے زائد وہ خون بھی استحاضہ ہے جو عادت کے ساتھ ساتھ اکثر مدت سے بھی متجاور ہوجائے ۔

صورتِ  مسؤلہ کے مطابق اگر مانعِ حمل انجکشن یا گولی کے استعمال کی وجہ سے وقفے وقفے سے خون آتا ہو، تو عورت کی عادت والے دن  حیض شمار ہوں گے، اور اس سے زائد تمام دن استحاضہ کے شمار ہوں گے۔

 

أقل الحيض ثلاثة ايام ولياليها وما نقص من ذلك فهو استحاضة" قوله عليه الصلاة والسلام "أقل الحيض للجارية البكر والثيب ثلاثة أيام ولياليها وأكثره عشرة أيام ... وأكثره عشرة أيام ولياليها والزائد استحاضة.(الهداية في شرح بداية المبتدي، ج: 1، ص: 32)

لو رأت الدم بعد أكثر الحيض والنفاس في أقل مدة الطهر فما رأت بعد الأكثر إن كانت مبتدأة وبعد العادة إن كانت معتادة استحاضة وكذا ما نقص عن أقل الحيض وكذا ما رأته الكبيرة جدا والصغيرة جدا. هكذا في المحيط.(الفتاوى الهندية ، ج: 1، ص: 38)


فتویٰ نمبر : 10803/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں