بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ولی کا بچے کے مال سے ٹیکس اداکرنا


سوال

ایک شخص نے اپنے فوت شدہ بھائی کے نابالغ بچے کا مال (جائیداد اور کچھ نقد سرمایہ) بطورِ ولی اپنے زیرِ نگرانی رکھا ہوا ہے۔حکومت نے حالیہ سال میں پراپرٹی ٹیکس اور سالانہ انکم ٹیکس کا نوٹس جاری کیا ہے، جو قانونی طور پر اس بچے کی ملکیت پر عائد ہوتا ہے۔ولی کو اب یہ مسئلہ درپیش ہے کہ:اگر وہ یہ ٹیکس ادا نہیں کرتا توممکن ہے کہ بچے کی جائیداد سرکاری طور پر ضبط یا منجمد ہو جائے،اور اگر ادا کرے تو بچے کے مال میں سے کچھ رقم خرچ کرنا پڑے گی۔ولی یہ پوچھتا ہے کہ:کیا شرعاً اسے بچے کے مال میں سے یہ ٹیکس ادا کرنے کی اجازت ہے؟کیا اس کے لیے بچے کی اجازت یا بلوغت کا انتظار ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ٹیکس اس  مخصوص رقم کو کہا جاتا ہے جو حکومت ریاست کے مختلف شعبہاے حیات سے منسلک لوگوں سے وصول کرتا ہے اور اس کےبدلے حکومتِ وقت انتظامی ،رفاہی وغیرہ سہولیات مہیا کرتی ہے،نیز یاد رہے کہ  اگر  حکومت اس ٹیکس سے عوامی ضروریات پوری کرے، ظلم وجبر کی بجائے عدل کے ساتھ وصول کرے، اور عوام پر ناقابل برداشت بوجھ نہ بنے،تو ایسے ٹیکس کی وصولی کی گنجائش موجود ہے مثلاً، اگر ٹیکس وصولی ایسی خدمات کے بدلے ہے جن سے لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہو (سڑکیں، ہسپتال، صفائی) اور وسائل شفاف و منصفانہ استعمال ہوں، تو وہ جائز ہو سکتی ہے،نیز  منصفانہ ٹیکس کی وجہ سےسرمایہ داروں کے سرمایہ جات کا تحفظ یقینی ہوجاتاہے،نیز واضح رہے کہ اولیا میں باپ،دادا یا ان کے وصی ( جس کو باپ یا دادا بچے کے مال پر نگران مقرر کرے)کو بچے کے مال میں مشروط تصرف کاحق حاصل ہے،یعنی  ایسا تصرف جو بچے کے حق میں نفع بخش ہویا نفع اورضرر دونوں کا احتمال ہولیکن نفع کی امید زیادہ ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ ٹیکس کی ادائیگی کی وجہ سے بچے کے مال  کا تحفظ ہوجاتا ہے،چنانچہ اگر حکومت نے بچے کے مال پر ٹیکس عائد کیا ہو ، مثلاً وہ جائیداد ہےیا کوئی دوسرا قابلِ ٹیکس اثاثہ ہو ، تو ولی (یعنی اُس بچے کا باپ یا دادا)یا اس کا وصی (جو باپ یا دادا کی طرف سے بچے کے مال پر نگران مقرر کردیا گیا ہو) کےلیےبچے کی مصلحت کے مطابق اس ٹیکس کی ادائیگی  کی گنجائش موجود ہے،اور اس کےلیے بچے کی اجازت یا بلوغت کا انتظار کرنا ضروری نہیں ہے،خاص کر جب انتظار میں اس کی جائیداد سرکاری طور پر ضبط یا منجمد ہونے کا بھی خطرہ ہو۔

 

وللأب أو الجد التصرف في جميع ماله فكذا لوصيه. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الوصايا، باب الوصي، ج: 6، ص: 213)

إذ ليس لولي غير الأب، والجد، والوصي، والقاضي ولاية في ‌التصرف ‌في ‌مال ‌الصغير كذا في الشرنبلالية. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق، كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء في النكاح، باب نكاح الرقيق، ج: 3، ص: 203)

لأن الأب لا يملك ‌التصرف ‌في ‌مال ‌الصغير مع نفسه على وجه الضرر. (الفتاوى الهندية، كتاب الشفعة، الباب الثاني عشر في شفعة الصبي ، ج: 5، ص: 192)

وإن وهب له أجنبي هبة تمت بقبض الأب"؛ لأنه يملك عليه الدائر بين النافع والضائر فأولى أن يملك المنافع. (الهداية، كتاب الهبة، حكمها وكيفية انعقادها، ج: 3، ص: 224)

أقول في جامع أحكام الصغار ويجب الخراج في أرض الصبيان والنسوان والمجانين لأن عمر - رضي الله تعالى عنه - وظف الخراج في جميع الأراضي. (غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر، الفن الثالث من الأشباه والنظائر وهو فن الجمع والفرق، أحكام الصبيان، ج: 3، ص: 321)


فتویٰ نمبر : 6560/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں