بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مضارب کا مال ِ مضاربت کو اپنے مال کے ساتھ خلط کرنا


سوال

میں نےاپنے ساتھی کو آٹھ لاکھ پچاس ہزار(850000)روپے دیے اورکہاکہ اس سے میرے لیے کاروبار چلاؤ اورپانچویں حصے میں نفع ونقصان میں شریک ہوگے،عامل نے مذکورہ پیسوں سےایک ٹرک آلوخرید لیاجب کہ مذکورہ ٹرک کے علاوہ ایک ٹرک اپنے لیے علیحدہ خریدا،بیچتے وقت دونوں ٹرکوں میں سات لاکھ اسی ہزار(780000)روپے تاوان ہوا جن میں ایک ٹرک کا نقصان دوسرے سے علیحدہ اور معلوم نہیں،مذکورہ نقصان کو نصف کرکے نصف نصف ادائیگی کی،اب عامل پر مذکورہ تاوان میں پانچویں حصے کا نقصان لازم آتاہےیا نہیں؟

جواب

عقدمضاربت میں نفع کی صورت میں مضارب اوررب المال کو مقرر کردہ حصے کے مطابق نفع ملے گا اورنقصان کی صورت میں تمام نقصان کا ذمہ دار رب المال ہی ہوگا،اگرچہ اس نے یہ شرط لگائی ہو کہ نقصان میں مضارب بھی شامل ہوگا،لیکن اس کے باوجود بھی مضارب شرعی طور پرنقصان کا ذمہ دار نہ ہوگا،نیز مضارب کےلیے یہ جائز نہیں کہ مالِ مضاربت کو اپنے اموال کےساتھ ملا لے،ورنہ ملانے کی صورت میں غاصب متصور ہوکرنقصان کا ضامن ہوگا۔

صورت مسئولہ میں مالک رب المال اور عامل مضارب ہے،جب رب المال نے مضارب کو مضاربت کےلیے رقم دی اور مضارب کےلیے نفع ونقصان کی صورت میں پانچواں حصہ بھی مقررکیا تو ابتداء ًمضارب پر اس پانچویں فیصدکے نقصان کی شرط باطل ہوکرمضاربت جائز ہوگی،پھر چونکہ مضارب نے رب المال کےمال(ٹرک) کو اپنے مال کے ساتھ خلط کرکے اس کوبیچا جس کی وجہ سے متعین طور پر ہر ایک ٹرك میں ہونےوالا نقصان معلوم نہیں،تو مضارب کی طرف سے تعدی پائی جانے کی وجہ سےاب سارا نقصان مضارب پر ہوگا،البتہ اگر رب المال اپنی طرف سے کچھ نقصان اٹھائے تو شرعا جائز ہے۔

 

وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما أو جميعه على المضارب فلا يعتبر ذلك الشرط. انظر المادة (83) أي يكون الشرط المذكور لغوا فلا يفسد المضاربة (الدرر) ؛ لأن هذا الشرط زائد فلا يوجب الجهالة في الربح أو قطع الشركة فلا تفسد المضاربة به حيث إن الشروط الفاسدة لا تفسد المضاربة (مجمع الأنهر). (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الكتاب العاشر: الشركات،  الباب السابع في حق المضاربة، الفصل الثالث في بيان أحكام المضاربة، المادة: 1428، ج: 3، ص: 459)

(المادة (1417) المال أي أنه يأخذ ربح رأس ماله ويقسم مال المضاربة بينه وبين رب المال على الوجه الذي شرطاه. (مجلة الأحكام العدلية، ‌‌الباب السابع: في حق المضاربة، ‌‌الفصل الثالث: في بيان أحكام المضاربة، ص: 274)

المادة (1426) استحقاق رب المال للربح هو بماله فلذلك يكون جميع الربح له في المضاربة الفاسدة ويكون المضارب بمنزلة أجير المثل لكن لا يتجاوز المقدار المشروط حين العقد ولا يستحق أجر المثل أيضا إن لم يكن ربح. (مجلة الأحكام العدلية، ‌‌الباب السابع: في حق المضاربة، ‌‌الفصل الثالث: في بيان أحكام المضاربة، ص: 275)

فالأصل في جنس هذه المسائل أن المضارب متى خلط مال رب المال بمال رب المال لا يضمن ومتى خلط مال المضاربة بمال نفسه أو بمال غيره يضمن . (الفتاوى الهندية، كتاب المضاربة، الباب الحادي عشر في دفع المالين مضاربة على الترادف، ج: 4، ص: 309)

والمضارب إذا خلط مال نفسه بمال المضاربة، ولم يقل له: اعمل برأيك يضمن وصار كأجنبي خلط المال. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب المضاربة، فصل في بيان حكم المضاربة، ج: 6، ص: 92)

(وأما) الخلط فلأنه يوجب في مال رب المال حقا لغيره، فلا يجوز إلا بإذنه. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب المضاربة، فصل في بيان حكم المضاربة، ج: 6، ص: 96)

فكل شرط يؤدي إلى جهالة الربح فهي فاسدة وما لا فلا مثل أن يشترط أن تكون الوضيعة على المضارب أو عليها ‌فهي ‌صحيحة ‌وهو ‌باطل. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب المضاربة، ج: 7، ص: 264)

‌وإذا ‌خالف ‌كان ‌غاصبا لوجود التعدي منه على مال غيره. (الهداية، كتاب المضاربة، تعريفها وشروطها، ج: 3، ص: 200)


فتویٰ نمبر : 3987/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں