بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بازار سے کسی کے لئے سامان لاکر قیمت سے زیادہ پیسے وصول کرنا


سوال

 ہم دیہات میں رہتے ہیں اور  ہم سے بازار تقریبا  آدھے گھنٹے کے فاصلہ پر ہے  اکثر جاتے وقت لوگ مجھے کہتے ہیں  کہ بازار  سے یہ سامان لادو اور جتنے پیسے ہو ں  گے میں آپ کو اس کے پیسے دے دو ں گا اب مثلا سامان کی قیمت 700 ہواور میں دوسرے کو کہو ں کہ مجھے آپ 900 روپے دے دو تو کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟یعنی اس میں سے دو سو روپے خود رکھنا کیسا ہے( کیونکہ بسا اوقات وہ چیز ڈھونڈنے میں وقت بھی زیادہ لگ جاتا ہے اور تھکاوٹ بھی ہوتی ہے )اس نیت سے کہ میرا جو پٹرول وغیرہ لگا میں ان میں سے پوراکرلوں گا اور باقی خود رکھ لو ں گا ؟

جواب

واضح رہے اگر کوئی شخص کسی کو پیسے دے کر کوئی چیز خریدنے کے لئے کہے تو یہ پیسے دینے والا مؤکل جبکہ پیسے  لینے والا وکیل با لشراء (یعنی خریداری کا وکیل) کہلاتا ہے اور وکیل کی حیثیت امین کی ہوتی ہے اس لئے خریدی ہوئی چیز کی جتنی قیمت بنتی ہے  وکیل اتنے ہی پیسوں کے  لینے کا حقدار ہوگا قیمت سے زیادہ پیسے لینا جائز نہیں ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق سائل کے لئے یہ جائز نہیں  کہ کم قیمت پر کوئی چیز خرید کر مؤکل سے زیادہ پیسے وصول کرلے ہاں اگر پہلے سے یہ بات واضح کر لی جائے کہ میں چیز لانے کی مخصوص اجرت لوں گا اور مؤکل بھی اس پر راضی ہو تو پھر زیادہ پیسے لینے میں کوئی قباحت نہیں ۔

 

المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يدهإذا ‌شرطت ‌الأجرة ‌في ‌الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة.(مجلة الأحكام العدلية،کتاب الوکالۃ،الباب الثالث،الفصل الثاني فی بيان أحكام الوکالۃ العمومية،المادۃ 1463،ص:285،284)


فتویٰ نمبر : 3981/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں