بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

محض سوچنے سے وقف کا انعقاد


سوال

میرا ایک پلاٹ ہے تقریباً سات مرلے کا تو میرے ذہن میں خیال آیا کہ فرنٹ پر خود گھر بنا لوں گا اور فرنٹ پر دروازہ نکال کر پیچھے مسجد کےلیے تین مرلے چھوڑ دوں گا اور ان تین مرلوں کے ساتھ کسی اور کی جگہ ہے وہ بھی ساتھ خرید لوں گا ،لیکن یہ صرف میں سوچ رہا تھا (مطلب خود سے ہی باتیں کر رہا تھا ) ابھی باقاعدہ مسجد کےلیے جگہ وقف نہیں کی ہے۔اب تب سے مجھے یہ پریشانی ہے کہ اس ( تقریباً )سات مرلے کے پلاٹ میں سے یا ساتھ خریدنے والی جتنی جگہ مسجد کے لیے میں نے سوچی تھی کیا وہ مسجد کی ہوگئی ؟ یا اگر میں نا بھی وقف کرنا چاہوں تو شرعی لحاظ سے کوئی پکڑ تو نہیں ہوگی اس پر میں گنہگار ہوں گا یا نہیں  ؟

جواب

واضح رہے  کہ وقف کا رکن ایسے الفاظ اور صیغے ہیں  جو وقف پر دلالت  کرنے والے ہوں چنانچہ صرف دل میں خیال وارادہ سے وقف منعقد نہیں ہوتا ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر سائل نے زبانی یا تحریری طور پرکوئی زمین یا پلاٹ وغیرہ وقف نہ کی ہو تو محض دل میں خیال وارادہ آنےسے وقف منعقد نہیں ہوتا،لہذا سائل مذکورہ پلاٹ اپنے استعمال میں لاسکتا ہے ،اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا ۔

 

(وركنه الألفاظ الخاصة ك) أرضي هذه (صدقة موقوفة مؤبدة على المساكين ونحوه) من الألفاظ كموقوفة لله تعالى أو على وجه الخير أو البر واكتفى أبو يوسف بلفظ موقوفة فقط قال الشهيد ونحن نفتي به للعرف.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف،ج:4،ص:340)


فتویٰ نمبر : 6554/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں