بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مضاربت میں رب المال کے لیے متعین نفع مقرر کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں  مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے دوسرے آدمی کو کاروبار کے لیے پچیس(25) لاکھ  روپے دیے,دوسرے آدمی نے اس پر پیٹرول پمپ کا کاروبار  شروع کیااور رب المال   کے ساتھ اس کی رضامندی سے اس بات پر عقد ہوا،کہ فی لیٹر اس کو ڈھائی  (.52(روپے دےگا۔کیا عقدشرعا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عقد مضاربت میں  منافع کی تقسیم    تناسب  سے طے کرنا   ضروری ہے، اگر کسی ایک کے لیے متعین  رقم  نفع میں سے طے کر لی جائے تو مضاربت جائز نہ ہوگی ، لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق ایک شخص کا دوسرے كو پچیس (25)لاکھ روپے دےکر  رب المال کا یہ شرط لگانا   کہ مضارب اس کو فی لیٹر ڈھائی(2.5) روپے دے گا شرعا   جائز نہیں ، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جتنی رقم متعین کی ہے اتنا ہی نفع ہو جائے یا اس سے کم ہو جائے،اس  کی درست صورت  یہ ہےکہ نفع میں سے دونوں کا حصہ تناسب  (مثلا:نصف، ثلث، ربع وغیرہ )کے حساب سے متعین کر لیا جائے۔

 

ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة من الربح لأن شرط ذلك يقطع الشركة بينهما ولا بد منها كما في عقد الشركة.

قال: "فإن شرط زيادة عشرة فله أجر مثله" لفساده فلعله لا يربح إلا هذا القدر. (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب المضاربة، ج:3،ص:200)

أن يكون المشروط لكل واحد منهما من المضارب ورب المال من الربح جزءا شائعا، نصفا أو ثلثا أو ربعا، فإن شرطا عددا مقدرا بأن شرطا أن يكون لأحدهما مائة درهم من الربح أو أقل أو أكثر والباقي للآخر لا يجوز. (بدائع الصنائع، كتاب المضارعه، فصل في بيان حكم المضاربة، ج:6، ص:85)


فتویٰ نمبر : 3976/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں