بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بورنگ کی مد میں ریلیز شدہ فنڈ کو سولر سسٹم میں لگانا


سوال

میں جمعیت علماء اسلام مقامی یونٹ کا امیر ہوں مجھے ہمارے علاقے کے ایم پی اے صاحب نے دو عدد پانی کی بورنگ منظور کیے جبکہ علاقے میں بورنگ کی ضرورت نہیں تھی میں نے ایم پی اے صاحب کے مشورے سے ایک بورنگ کو جو سرکار میں بورنگ کے نام سے پیسے نکلے تھے اس سے گاؤں کے دو مساجد اور دو گھرانوں کے لیے سولر سسٹم خریدا یاد رہے سرکار سے ہمارے لیے یہ فنڈ بورنگ کے مد میں ریلیز ہوئے لیکن میں نے مقامی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایم پی اے صاحب کے مشورے سے اس بورنگ کے پیسوں سے یہ سولر سسٹم خرید لیے اب حل طلب امر یہ ہے کہ کیا میرے لیے بورنگ کے ان پیسوں سے سولر کا سسٹم خریدنا جائز ہے یا نہیں ؟اسی طرح جن گھرانوں کو میں مستحق سمجھتا ہوں اور دینا چاہتا ہوں ان کے لیے یہ سولر سسٹم استعمال کرنا جائز ہےیا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے سرکاری فنڈ جس مد کے لئے مختص ہو جائے تو اسی مد میں استعمال کرنا لازم ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے مد میں استعمال کرنا جائز نہیں البتہ اگر صاحب منصب کو صوابدیدی اختیار کے بناء پر فنڈ حوالہ کیا گیا ہو تو اسے کسی بھی مصرف میں استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ فنڈ بورنگ کی مد میں ریلیز ہوا اس وجہ سے کسی دوسری مد میں اس کا استعمال کرنا جائز نہیں البتہ اگر حکومت کی جانب سے  ایم پی اے کو فنڈ کسی بھی مصرف میں استعمال کرنے کی اجازت ہوتو اس صورت میں متعلقہ ایم پی اے کی اجازت سے کسی دوسرے مصرف میں استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی لیکن خرچ کرنے میں صوابدیدی  اختیارات بہت کم ہوتے ہیں اس لئے مصرف کی رعایت ضروری ہے۔

 

الوكيل ‌إنما ‌يستفيد ‌التصرف ‌من ‌الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الزكوة،ج:3 ص:189)

وإذا ‌أراد ‌أن ‌يصرف ‌شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك، إلا إن كان الواقف شرط ذلك فى الوقف، كذا فی الذخيرة .( الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،ج:2 ص:463)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں