بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شرعی حق مہر کی مقدار


سوال

میری منگنی ہوئی ہے، لڑکی کے والدین نے پہلےمجھے کہا تھا کہ شریعت کے مطابق لڑکی دیں گے، لیکن بعد میں منگنی کے وقت بتایا کہ پانچ تولہ سونا اور کمرے کا مکمل سامان یہاں تک کہ اے سی بھی حق مہرمیں ادا کرو گے، تو کیا یہ مہر شریعت کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے مہر ایک اعزازیہ ہے جس سے عورت کا اعزاز و اکرام مقصود ہوتا ہے، پس مہرنہ تو اتنا کم ہونا چاہئے کہ اس سے مقصود ہی فوت ہوجائے اور نہ اتنا زیادہ کہ شوہر کی مالی استطاعت سے باہر ہواور رخصتی میں تاخیر کا سبب بنے، اسی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت میں بڑی مقدار میں مہر مقرر کرنے کی حوصلہ شکنی فرماتے تھے۔

صورت مسئولہ میں پانچ تولہ سونا اور کمرے کا مکمل سامان مہر میں مقرر کرنا شریعت کے مطابق جائز ہے، البتہ اگر یہ شوہر کی مالی استطاعت سے زیادہ ہوتو پھربہتر یہ ہے کہ لڑکی کے والدین اس میں تخفیف کریں۔  

 

عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم قال:إن أعظم النكاح بركة أيسره صداقا. (المستدرك على الصحيحين،كتاب النكاح،رقم الحديث:2732، ج:2، ص:195)

عن أبي العجفاء السلمي قال: قال عمر بن الخطاب: ‌ألا ‌لا ‌تغالوا ‌صدقة ‌النساء. ‌فإنها ‌لو ‌كانت ‌مكرمة ‌في ‌الدنيا، أو تقوى عند الله، لكان أولاكم بها نبي الله صلى الله عليه وسلم. ما علمت رسول الله صلى الله عليه وسلم نكح شيئا من نسائه، ولا أنكح شيئا من بناته، على أكثر من ثنتي عشرة أوقية. (سنن الترمذي،باب ما جاء في مهور النساء،رقم الحديث:1114، ج:3، ص:423)


فتویٰ نمبر : 7319/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں