بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بچے کا اپنے فعل کی وجہ سے فوت ہوجانے کی صورت میں ماں پر کفارہ کا حکم


سوال

اگر کوئی چھوٹا بچہ یا بچی جس کی عمر دو سال یا اس سے کم ہو، اپنے کسی فعل کی وجہ سے فوت ہوجائے، مثلاً: اس پر گرم پانی گر جائے، بجلی کا کرنٹ لگ جائے، تندور میں گر جائے یا کسی اور مہلک چیز سے جان چلی جائے، تو کیا ایسی صورت میں اس کی ماں پر کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟ شریعتِ مطہرہ اس بارے میں کیا حکم دیتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص پر کفارہ قتل "قتلِ خطا، شبہ خطا یا شبہ عمد" کی صورت میں لازم ہوتا ہے، اس کے علاوہ صورتوں میں کفارہ لازم نہیں ہوتا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی بچہ یا بچی اپنے کسی فعل سے فوت ہوجائے، تو چونکہ بچے یا بچی کی اس طرح موت مذکورہ اقسامِ قتل میں سے کسی میں  داخل نہیں، اس لیے اس کی ماں پر کوئی کفارہ واجب نہیں ہوگا۔

 قال رحمه الله (وشبهه، وهو أن يتعمد ضربه بغير ما ذكر، الإثم والكفارة..... والخطأ، وهو أن يرمي شخصا ظنه صيدا أو حربيا فإذا هو مسلم أو غرضا فأصاب آدميا أو ما جرى مجراه كنائم انقلب على رجل فقتله الكفارة والدية على العاقلة) أي موجب قتل الخطأ وموجب ما جرى مجرى الخطأ الكفارة والدية على العاقلة. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الجنايات، ج:6، ص:101)


فتویٰ نمبر : 6546/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں