بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بلا عذر شرعی روزہ توڑنے کا حکم


سوال

 اگرایک عاقل بالغ لڑکا جان بوجھ کر بلا عذر ِشرعی روزہ توڑ دے تو اس کا کیا فدیہ ادا کرے گا،اگر وہ ۶۰ روزے نہ رکھے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی عاقل بالغ مقیم شخص قصدا بلا عذر شرعی رمضان کا روزہ توڑ دے تو اس پر قضا و کفارہ دونوں لازم ہے اور جہاں تک فدیہ کا تعلق ہےتو وہ ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں چنانچہ جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو اس پر فدیہ لازم نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص جان بوجھ کر بغیر کسی عذر شرعی کے رمضان کا روزہ توڑ دے تو اس پر قضا و کفارہ دونوں لازم ہے، یعنی وہ ایک روزہ قضا اور مسلسل ساٹھ روزے کفارے کے طور پررکھے گا،محض فدیہ دینے سے ذمہ فارغ نہ ہوگا،البتہ اگرکوئی شخص بہت زیادہ بوڑھا اور ضعیف ہونے کی وجہ سے بالکل روزہ نہ رکھ سکتا ہو، یا ایسی بیماری میں مبتلا ہو کہ روزے کی بالکل استطاعت نہ ہو اور اس کی صحت کی امید نہ ہوتو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے گا۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه:جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن الأخر وقع على امرأته في رمضان فقال: (أتجد ما تحرر رقبة) قال لا قال: (أفتستطيع أن تصوم شهرين متتابعين) قال لا قال: (أفتجد ما تطعم به ستين مسكينا) قال لا قال: فأتي النبي صلى الله عليه وسلم بعرق فيه تمر، وهو الزبيل، قال: (أطعم هذا عنك) قال على أحوج منا، وما بين لابتيها أهل بيت أحوج منا. قال: (فأطعمه أهلك).( صحيح البخاري، كتاب الصوم،رقم الحديث :1937،ج:1،ص:517)

إذا أكل متعمدا ما يتغذى به أو يتداوى به يلزمه الكفارة، وهذا إذا كان مما يؤكل للغذاء أو للدواء فأما إذا لم يقصد لهما فلا كفارة وعليه القضاء...فالصائم إذا أكل الخبز،أو الأطعمة،أو الأشربة،أو الأدهان،أو الألبان،او أكل إهليلجة،أو مسکا،أو زعفرانا، أو كافورا، أو غالية،عليه القضاء والكفارة عندنا. ( الفتاوى الهندية،كتاب الصوم، ج:1، ص:267)

 (وإن جامع في رمضان ...أواحتجم فظن فطره به فأكل عمدا قضى وكفر قوله :(ككفارة ‌المظاهر) مرتبط بقوله وكفر أي مثلها في الترتيب فيعتق أولا فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينا لحديث الأعرابي المعروف في الكتب الستة. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصوم، ج:3، ص:385)


فتویٰ نمبر : 10815/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں