بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

داڑھی منڈوانے سے توبہ کرنے والےآدمی کی امامت


سوال

ایک عاقل بالغ لڑکا پہلے داڑھی مُنڈواتا تھا اب مُنڈوا نا چھوڑ دیا، لیکن ابھی اس کی داڑھی ایک مشت تک نہیں پہنچی ہے، البتہ وہ لڑکا قرآن کو مخارج کی ادائیگی اور لہجہ کے ساتھ پڑھنے میں ماہر ہے تو کیا وہ نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟جبکہ اس کی اقتدا میں مکمل داڑھی والے کچھ کم پڑھے لکھے حضرات بھی  موجود ہیں۔

جواب

شرعی نقطہ نظر سے جس طرح داڑھی منڈوانا ناجائزہے،اس طرح اس کو ایک مشت سے  کم کرنا بھی جائز نہیں،نیزایسے آدمی کو مستقل امام بنانا مکروہ تحریمی ہے،لیکن بوقت ضرورت انفرادا نماز پڑھنےکی نسبت اس کی اقتدا کرنا بہتر ہے، البتہ اگر کوئی آدمی داڑھی منڈواتا ہواور پھر منڈواناچھوڑ کر توبہ کرلے،اور آئندہ کے لیے نہ منڈوانے کا عزم کرلے، تو اس کے پیچھے نماز پڑھناجائزہے۔لہذا صورت مسؤلہ کےمطابق مذکورہ شخص  نے جب داڑھی  منڈوانا چھوڑ دیا،اس سے توبہ کرلی ،اور داڑھی رکھنا شروع کردیا،تو اگر چہ اس کی داڑھی ابھی ایک مشت نہیں ہوئی ہے، لیکن اس کی امامت جائز ہےاور اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا درست ہے۔

 

عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌التائب ‌من ‌الذنب، ‌كمن ‌لا ‌ذنب ‌له. (سنن ابن ماجه، كتاب الزهد، باب ذكر التوبة، رقم الحديث:4250، ج:2،ص:1419)

وقال الكلبي: التوبة النصوح الندم بالقلب، والاستغفار باللسان، والإقلاع عن الذنب، والاطمئنان على أنه لا يعود. (الجامع لأحكام القرآن للإمام القرطبي،سورۃ التحریم، آیت:8، ج:18، ص:198)

ويكره تقديم العبد " لأنه لا يتفرغ للتعلم " والأعرابي " لأن الغالب فيهم الجهل " والفاسق " لأنه لا يهتم لأمر دينه. (الهداية، كتاب الصلوة، ج:1، ص:57)

وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم. (رد المحتارعلی الدرالمختار، ج:2، ص:418)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں