بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

باجماعت نماز کا حکم


سوال

حدیث شریف میں ہے کہ "جو لوگ مسجد نہیں آتے اور گھر ہی پر نماز پڑھ لیتے ہیں میراجی چاہتا ہےکہ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں"۔ "جو شخص اذان سنے اور مسجد نہ آئے تو اس کی نماز قابلِ قبول نہیں"۔ حضرت ابنِ مسعود رضی الله عنہ فرماتے ہیں "اگر تم گھروں میں نماز پڑھنے لگو اور مسجدوں کو چھوڑدوتوتم گمراہ ہو جاؤ گے"۔ فقہی کتب میں ہےکہ "اجابت بالقدم واجب ہے"۔ جماعت کی نماز صرف آزاد مردوں پرواجب ہے،عورتوں پرنہیں،اس لیےکہ ان کانکلنافتنہ ہے۔ مسجد جانےسےفلاں فلاں شدیدعذرہوتب ہی جماعت چھوڑنےکی گنجائش ہے،اوراگرکوئی عذرنہ ہوپھربھی جماعت کی حاضری ترک کرنےکامعمول ہوتوایسا شخص مرتکب کبیرہ ہے۔ اکابر میں حضرت گنگوہی، کشمیری،سہارنپوری رحمہم اللہ—تمام ہی اکابر—اجابت بالقدم کو واجب گردانتے ہیں۔ ان تصریحات سےمعلوم ہوتا ہےکہ مسجد کی جماعت صرف شدیداعذارپرچھوڑنےکی گنجائش ہے۔ وہی دوسری طرف "قاضی خان"،"ہندیۃ"وغیرہ سےمعلوم ہوتاہےکہ مسجد کی جماعت محض افضل ہے،نماز پڑھتے وقت اگر کسی بھی شخص (متنفل، بچہ، عورت) کو اپنے ساتھ شریک کرلےتولائقِ ملامت نہیں۔عرض یہ ہےکہ یہ مسئلہ صحیح ہےیانہیں؟شبہ یہ ہوتا ہےکہ اگریہ مسئلہ عوام کو بتا دیا جائےتومسجدیں ویران ہوجائیں گی۔رہنمائی فرما کر مشکور ہوں۔    

جواب

اسلام میں باجماعت نمازکو بڑی اہمیت حاصل ہے،تاہم نفسِ جماعت کے واجب ہونےیامسجد میں جماعت کے واجب ہونے کے بارے میں وضاحت یہ ہے کہ نفسِ جماعت کے ساتھ نماز پڑھناتوواجب ہےالبتہ مسجد میں جماعت اداکرناسنت علی الکفایہ ہےیعنی اگراہل مسجد میں سےکچھ افراد بھی مسجد میں جماعت کے ساتھ نمازاداکردیں توسارے اہل مسجد کا ذمہ فارغ ہو جاتا ہے، ورنہ عدم ادائیگی کی صورت میں سارے اہل مسجد ترکِ سنت کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے۔ چنانچہ جو لوگ مسجد کی جماعت میں شریک ہوتے ہوں لیکن کبھی کبھار عذر کی بنا پر یا بغیر عذر گھر میں یا کسی دوسری جگہ جماعت سے نماز پڑھ لیتے ہوں ان پر گناہ نہ ہوگا لیکن یہ ضروری ہے کہ محلہ کی مسجد غیر آباد نہ ہو جائے اور بلاعذر دائمی طور پر مسجد کی جماعت ترک نہ کی جائے۔نیز یہ بات درست ہےکہ اگر کوئی شخص اپنےساتھ متنفل،عورت،یاکوئی عاقل بچہ اپنےساتھ نمازمیں شریک کرلےاورنمازپڑھ لےتواس کوباجماعت نمازکی فضیلت حاصل ہوجائےگی، تاہم مسجدسےباہرباجماعت نمازپڑھنےکےصورت میں مسجدکی نماز کی جوفضیلت ہے وہ حاصل نہ ہوگی،اس لیےکہ مسجد کی جماعت کی فضیلت مسجد سے باہر کی جماعت سے زیادہ ہے۔

 

عن عبد الله بن عمررضى الله عنه:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة.‌(صحيح البخاري،كتاب الصلاة،باب: فضل صلاة الجماعة، رقم الحديث: 645،ج:1،ص:181)

وتسقط الجماعة بالأعذار حتى لا تجب على المريض والمقعد والزمن ومقطوع اليد والرجل من خلاف ومقطوع الرجل والمفلوج الذي لا يستطيع المشي والشيخ الكبير العاجز والأعمى عند أبي حنيفة، قال أبو يوسف سألت أبا حنیفة عن الجماعة في طين وردغة فقال لا أحب تركھا والصحيح أنھا تسقط بعذر المرض والطين والمطر والبرد الشديد والظلمة الشديدة. (تبيين الحقائق، الأحق بالإمامة، ج:1، ص:133)

الجماعة في المسجد على الكفاية. (البناية شرح الھداية، ج:2، ص:550)

دل فعل هؤلاء أن الجماعة في المسجد سنة على سبيل الكفاية. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص 413)

صلاة الجماعة واجبة في الراجح في المذهب أو سنة مؤكدة في حكم الواجب كما في البحر وصرحوا بفسق تاركھا وتعزيره. (رد المحتارعلی الدرالمختار،كتاب الصلاة،ج:2،ص:148)

(وأقلھا اثنان) واحد مع الإمام ولو مميزا أو ملكا أو جنيا في مسجد أو غيره.( ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب الإمامة، ج:2، ص:289/290)


فتویٰ نمبر : 10909/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں