بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

طلاق دینے کےبعد نابالغ بچوں کی حضانت


سوال

عبد اللہ نے اپنی بیوی عائشہ کو طلاق دی ہے ،اب عدت پوری ہونے پر تقسیم حقوق کے متعلق درجہ ذیل امور کی وضاحت درکار ہے وضاحت فرما کر مہربانی فرمائیں۔ - تین بچیاں اور ایک بچہ جو کہ نابالغ ہیں ان کی پرورش اور نان نفقہ باپ پر واجب ہوگا یا نہیں ؟  ان بچوں کو والدہ کب تک اپنے پاس روک سکتی ہے؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سےوالد پر اپنی اولاد کا نفقہ واجب ہے۔ بیٹوں کا نفقہ اس وقت تک لازم ہے جب تک وہ بالغ نہ ہو جائیں، اور بیٹیوں کا نفقہ اس وقت تک واجب ہے جب تک ان کا نکاح نہ ہو جائے۔جہاں تک مطلقہ عورت (معتدہ) کے نان و نفقہ کا تعلق ہے تو جب تک اس کی عدت باقی ہو، شوہر پر اس کا خرچ لازم ہوتا ہے، لیکن عدت گزر جانے کے بعد شوہر کے ذمے مطلقہ بیوی کا نفقہ واجب نہیں رہتا۔

صور ت  مسؤلہ  میں بچے کا نفقہ اس کے بالغ ہونے تک باپ کے ذمے لازم ہے، جبکہ بیٹی کا نفقہ اس وقت تک باپ کے ذمہ رہتا ہے جب تک اس کا نکاح نہ ہو جائے، اور یہ نفقہ باپ کی مالی استطاعت کے مطابق ادا کیا جائے گا۔ حضانت کے معاملے میں لڑکا سات سال کی عمر تک اور لڑکی نو سال کی عمر تک ماں کی زیرِ پرورش رہیں گے، اس کے بعد ان کی پرورش اور ذمہ داری باپ کے سپرد ہوگی ۔

 

المعتدة ‌عن ‌الطلاق ‌تستحق ‌النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطلاق،الباب السابع عشر فی النفقات،الفصل الثالث فی نفقۃ المعتدۃ،ج:1،ص:557)

‌نفقة ‌الأولاد ‌الصغار ‌على ‌الأب ‌لا ‌يشاركه فيها أحد۔۔۔‌ونفقة ‌الإناث ‌واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة۔۔۔ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد ‌يكون ‌عاجزا ‌عن ‌الكسب ‌لزمانة، أو مرض ومن يقدر على العمل لكن لا يحسن العمل فهو بمنزلة العاجز كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوی الھندیۃ ،کتاب الطلاق،الباب السابع عشر فی النفقات،الفصل الرابع فی نفقۃالأولاد۔ج:1،ص:560،563)

‌والأم ‌والجدة ‌أحق ‌بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين.( الفتاوی الھندیۃ،کتاب الرضاع،الباب السادس عشر فی الحضانۃ،ج:1،ص:542)


فتویٰ نمبر : 7317/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں