بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قبرستان میں کھیلنے کا حکم


سوال

ہمارے ہاں ایک وسیع جگہ قبرستان کے لیے وقف ہے، جس میں ابھی کافی جگہ فارغ موجود ہے، سائڈ پر قبریں بھی ہیں تو  فارغ پڑی زمین پرکرکٹ کھیلنا یا  نیٹ وغیرہ لگا کے اس میں  ولی بال کھیلنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جو جگہ قبرستان  کے لیے وقف کر دی  جائے،تو اسے صرف اس مقصد کے لیے  استعمال  کرنا ضروری ہے جس کےلیے  واقف نے وقف کی ہے،یعنی  میتوں کو اس میں دفنانا ، لہذا اس میں سوائے دفن کے اور تصرف کی اجازت نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جو جگہ قبرستان کے لیے وقف ہو چکی ہے،اسے لہو لعب اور کھیل تماشےکےلیے استعمال کرناجائز نہیں اگر چہ فی الحال وہ جگہ خالی ہو۔

 

(وعن عمرو بن حزم) بفتح الحاء وسكون الزاي: (قال: رآني النبي صلى الله عليه وسلم ‌متكئا ‌على ‌قبر فقال: لا تؤذ صاحب هذا القبر) أي: لا تهنه.( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الجنائز، باب دفن الميت، ج:3 ص:1230 )

شرط ‌الواقف ‌كنص ‌الشارع: أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الوقف، ص:379 )

(‌فإذا ‌تم ‌ولزم لايملك ولا يعار ولا يرهن).( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الوقف، ص:370 )

شرط ‌الواقف ‌يجب اتباعه لقولهم:‌‌ شرط الواقف كنص الشارع أي في وجوب العمل به، وفي المفهوم والدلالة، كما بيناه في شرح الكنز.( الأشباه والنظائر، كتاب الوقف، ص:163 )

ولا يجوز ‌تغيير ‌الوقف ‌عن ‌هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف.( الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، الباب الرابع عشر في المتفرقات، ج:2، ص:490 )


فتویٰ نمبر : 6543/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں