بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

طلاق کے بعدبچےکی پرورش کا حق


سوال

ایک عورت جس کو شوہر نے طلاق دی ہے اور اس کے ساتھ ایک بچہ بھی ہےجس کی عمر 6 سال ہے،اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ اس بچے کی پرورش وغیرہ کی ذمہ داری اس کے باپ کی ہے یا والدہ کی؟ جب کہ باپ پرورش سے انکار کرتا ہے۔

جواب

واضح ہو کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہو جانے کے بعد لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک اس کی پرورش کا حق اس کی والدہ کو حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ اس دوران وہ بچے کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے یا وہ اپنے حق سے دستبردار نہ ہو جائے، اور اس دوران بچے کا نان  نفقہ اس کے والد پر لازم ہوگا، تاہم جب بچہ سات سال کو پہنچےتو پھر ان کو  والد کی پرورش میں دیا  جائے گا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بچہ اگر سات سال کی عمرسے کم  ہے، تو ایسی صورت میں بچے کی پرورش کی ذمہ داری  اُس کی ماں  کو ہے،  البتہ اسی دوران بچے کے تمام اخراجات بچے کے والد کے ذمہ ہیں، اور جب بچہ سات سال کا ہوجائے، تو پھر اُسے والد کے حوالہ کیا جائے  گا، لیکن اگر وہ بغیر کسی شرعی عذر کےانکارکرتا ہو تو اس صورت میں اس پر لازم  کیا جائے گاکہ وہ بچے کو پرورش میں لے لے ،کیونکہ  بچے کی حفاظت اور نان نفقہ اسی کے ذمہ ہے۔

 

(‌والحاضنة) ‌أما، ‌أو ‌غيرها (‌أحق ‌به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا...، (قوله: ولو جبرا) أي إن لم يأخذه بعد الاستغناء أجبر عليه كما في الملتقى.وفي الفتح: ويجبر الأب على أخذ الولد بعد استغنائه عن الأم لأن نفقته وصيانته عليه بالإجماع اهـ. وفي شرح المجمع: وإذا استغنى الغلام عن الخدمة أجبر الأب، أو الوصي أو الولي على أخذه لأنه أقدر على تأديبه وتعليمه.( رد المحتار، باب الحضانة، ج:3، ص:566 )

‌أحق ‌الناس ‌بحضانة ‌الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم...، وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت.( الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:541 )

(ونفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد)، أي: لا يشارك الأب أحد في حق وجوب النفقة للأولاد الصغار، أي: لا تجب ‌نفقة ‌الأولاد ‌الصغار ‌على ‌الأب وعلى الآخر معه، بل على الأب خاصة.( النهاية في شرح الهداية، كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:9، ص:145 )


فتویٰ نمبر : 7313/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں