بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رائس انشورنس میں باہمی نقصان کی تلافی


سوال

میرے چچا ضلع خان بیلہ میں چاول کا کاروبار کرتا ہے۔ اب وہاں رائس انشورنس(Rice Insurance) کے نام سے ایک اسکیم شروع ہونے والا ہے، جس کاطریقہ کار یہ ہے کہ اس میں کل بارہ ساتھی ہوں گے، ہر ایک سال کے شروع میں ایک لاکھ روپے جمع کرے گا اور منڈی سے روزانہ جو گاڑی بھر کر جائے گاتو اس سے دس ہزار روپے لیے جائیں گےجن کو ان بارہ لاکھ کے ساتھ جمع کیا جائے گا۔ پھر اگر کسی گاڑی کا نقصان ہوجائے ، مثلاً: گاڑی پلٹ جائے یا چاول کا نقصان ہوجائے تو وہ ان پیسوں سے پورا کیا جائے گا، اور سال کے آخر میں جتنے پیسے باقی بچ جائیں تو وہ ان بارہ آدمیوں پر تقسیم کیے جائیں گے۔ کیا مذکورہ طریقہ اختیار کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ہے جب ایک ہی پیشے یا فن سے وابستہ افراد کا ایک گروہ، جنہیں کسی خاص نوعیت کے خطرے کا سامنا ہوتا ہے، آپس میں تعاون پر مبنی معاہدہ کر لیتا ہے کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو کوئی نقصان یا خطرہ لاحق ہو جائے تو سب مل کر اپنی جمع شدہ رقوم میں سے اس کا ازالہ کریں گے۔ تو اگر اس معاہدہ میں کسی حرام چیز مثلاً: ربا، قمار یا غرر وغیرہ کی آمیزش نہ ہو، تو یہ صورت جائز اور حلال ہوگی۔ کیونکہ اس صورت میں جمع شدہ رقوم انہی شرکاء سے لی جاتی ہیں اور انہی پر خرچ کی جاتی ہیں، اور ان کے درمیان تعلق تعاون اور تبرع (یعنی خیر خواہی اور باہمی مدد) پر قائم ہوتا ہے، نہ کہ تجارت یا منافع حاصل کرنے پر۔ البتہ اگر ان کے معاملات میں کوئی حرام چیز(مثلاً: سود، قمار وغیرہ) شامل ہو جائے، تو پھر وہ ناجائز ہو گا۔

صورت  مسئولہ میں اگر کئی افراد باہمی رضامندی سے سال کے آغاز میں فی کس ایک ایک لاکھ روپےجمع کریں، اور پھر منڈی سے روزانہ جو گاڑی بھرکر جائے  وہ دس ہزار روپے بطورِتبرع جمع کرائے، اور اس بات پر اتفاق ہوجائے کہ اگر کسی گاڑی یا چاول کو نقصان پہنچ جائے تواس نقصان کی تلافی انہی  جمع شدہ رقوم سے کی جائے گی، اور سال کے آخر میں جو رقم  باقی بچ جائے وہ انہی شرکاء کے درمیان تقسیم کی جائے گی، تو یہ باہمی تعاون پر مبنی معاہدہ شمار ہونے کی بنا پر شرعاً جائز ہوگا۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى﴾ (المائدة:2)

وقال تعالى: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ ﴾ (الحجرات:10)
عن أبي موسى قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: (إن الأشعريين إذا أرملوا في الغزو، ‌أو ‌قل ‌طعام ‌عيالهم ‌بالمدينة، ‌جمعوا ‌ما ‌كان ‌عندهم في ثوب واحد، ثم اقتسموه بينهم في إناء واحد بالسوية، فهم مني وأنا منهم). (صحيح البخاري، كتاب الشركة، باب الشركة في الطعام والنهد والعروض، رقم الحديث:2354، ج:2، ص:880)

عن عبد الله بن جعفر، قال: لما جاء نعي جعفر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌اصنعوا ‌لآل ‌جعفر ‌طعاما، ‌فقد ‌أتاهم ‌ما ‌يشغلهم، أو أمر يشغلهم». (سنن ابن ماجه، كتاب الجنائز، باب ما جاء في الطعام يبعث إلى أهل الميت، رقم الحديث:1610 ج:1، ص:514)

والحديث ‌أصل ‌في ‌المشاركات ‌عند ‌الحاجة، وصححه الترمذي. والسنة فيه أن يصنع في اليوم الذي مات فيه، لقوله صلى الله عليه وسلم: "فقد جاءهم ما يشغلهم عن حالهم، فحزن موت وليهم اقتضى أن يتكلف لهم عيشهم"، وقد كانت للعرب مشاركات ومواصلات في باب الأطعمة باختلاف أسباب وفي حالات جماعها-انتهى. (مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الجنائز، باب البكاء على الميت، الفصل الثاني، ج:5، ص:480)


فتویٰ نمبر : 6538/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں