بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

وکیل کازکوۃ کی رقم کو ذاتی استعمال میں لانا


سوال

اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو زکوٰۃ کی رقم اس نیت سے دے کہ وہ کسی مستحق کو پہنچا دے (یعنی اسے وکیل بنا دے)،تو کیا وہ وکیل اس زکوٰۃ کی رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے، بشرطیکہ بعد میں اپنی ذاتی رقم سے کسی مستحق کو زکوٰۃ ادا کر دے؟

جواب

واضح رہے کہ جس طرح آدمی خودزکوۃ ادا کر سکتا ہے اسی طرح دوسرے شخص کو بھی زکوۃ کا وکیل بناسکتا ہے،اسی طرح جس آدمی کو زکاۃ کی ادائیگی کا وکیل بنایا جائے تو زکوۃ کی ادائیگی سے پہلے وہ رقم اس کے پاس امانت کے حکم میں ہوتی ہے، اِس لیے اُس کے لیے  زکوۃ کی رقم مؤکِّل کی اجازت کے بغیر اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہوتا، اگر اُس نے مؤکل کی اجازت کے بغیر اُس کے پیسے اپنے ذاتی استعمال میں لائے، اور پھر اپنے پیسوں سے زکوٰۃ ادا کی، تو وہ زکوٰۃ ادا نہ ہوگی بلکہ وہ شخص متبرع شمار ہوگا ، البتہ مؤکِّل کی طرف سے اجازت ملنے کی صورت میں اگر وہ اس رقم کو اپنی ضرورت میں خرچ کردے اور بعد میں اپنی ذاتی رقم سے مؤکِّل کی طرف سے زکاۃ ادا کردے تو زکوۃادا ہو جائے گی ۔

 

ولو خلط زكاة موكليه ضمن وكان متبرعا( قوله ضمن وكان متبرعا) ‌لأنه ‌ملكه بالخلط وصار مؤديا مال نفسه. قال في التتارخانية: إلا إذا وجد الإذن أو أجاز المالكان اهـ أي أجاز قبل الدفع إلى الفقير. (ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:269)

أي الوكيل بدفع الزكاة ‌إذا ‌أمسك دراهم الموكل ودفع من ماله ليرجع ببدلها في دراهم الموكل صح. بخلاف ما إذا أنفقها أولا على نفسه مثلا ثم دفع من ماله فهو متبرع .(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الزكاة،ج:2،ص:269،270)


فتویٰ نمبر : 4000/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں