بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

وی آئی پی حج پیکج کی سہولتوں کاحکم


سوال

ایک شخص "یاسر" جو سعودی عرب میں مقیم ہے، حج کی نیت سے نکلا۔ اس نے پہلے سے پیسے جمع کر رکھے تھے، مگراس نے حج قرعہ میں اپنا نام درج نہیں کرایا تھا (کیونکہ وہ مقامی ہے)، بلکہ ایک نجی کمپنی کے ذریعے حج پر گیا۔کمپنی نے اسے "وی آئی پی حج" پیکیج دیا، جس میں:عرفات میں ایئرکنڈیشنڈ خیمے، منیٰ میں ہوٹل میں قیام، مزدلفہ میں صرف "گزرتے ہوئے" قیام ، جمرات میں ساتھی کے ذریعے کنکریاں، طوافِ افاضہ ایامِ تشریق کے بعدسعی برقی وہیل چیئر پر خادم کے ذریعےاور قربانی کسی بینک کے ذریعے کی گئی۔ یاسر نے حج مکمل کیا، مگردل میں شک ہے کہ کیا اس کا حج صحیح ادا ہوا یا نہیں؟ اس کا کہنا ہے کہ میری نیت خالص تھی، لیکن سہولتیں غیر معمولی تھیں۔

1.کیا مزدلفہ میں مکمل رات کا قیام چھوڑ دینا، حج کو فاسد کرتا ہے یا دم لازم کرتا ہے؟2.کیا جمرات کی رمی بالوکالہ (خادم کے ذریعے) جائز ہے؟3.کیا طواف اور سعی برقی کرسی پر دوسرے کے دھکیلنے سے ادا ہو جاتی ہے؟4۔کیا رمی، قربانی اورحلق میں ترتیب ساقط ہونے پردم لازم آئے گا ؟5۔کیا "وی آئی پی سہولتیں" اورعرفات ومنیٰ میں آرام دہ جگہ، سنت کے خلاف شمار ہوں گی۔6۔اگرکوئی رکن چھوڑا جائے، تو کیا حج مکمل ہوگا یا دوبارہ ادا کرنا ہوگا؟

جواب

جاننا چاہیے کہ وقوف عرفہ اور طواف زیارت فرائض حج میں سے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی چھوٹ جائے تواس کی تلافی دم سے نہیں ہوتی بلکہ حج کی قضاء لازم ہوگی ،جبکہ وقوف مزدلفہ ،سعی بین الصفا والمروۃ، رمی جمرات، متمتع اورقارن کا قربانی کرنا، حلق یا  قصرکرنا، آفاقیوں کے لیے طواف  وداع، غیر معذور کے لیے سعی اور طواف میں مشی (پیدل چلنا) واجبات میں سے ہیں اورواجبات کو بلا عذر چھوڑنے سے دم لازم آتاہے۔ چاہے عمداً چھوڑے یا سھواً ہرصورت میں دم لازم آتا ہے ۔جبکہ احرام کے لیے غسل کرنا،تلبیہ پڑھنا، طواف میں رمل کرنا، او ر سعی میں دوڑنا ،منی میں رات گزارنا ،مزدلفہ میں رات گزارنا ، ایامِ رمی میں منی میں رات گزارنا سنن ِحج میں سے ہے سننِ حج کو بلاعذر ترک کرنےسے آدمی گناہگارہوجاتاہے البتہ اس سے دم لازم نہیں آتا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق 1۔مزدلفہ میں مکمل رات کا قیام ترک کرنےسے نہ دم لازم آتاہے اورنہ ہی اس سے حج فاسد ہوتاہے البتہ بغیرعذر کے فجر تک وقوف ترک کرنے سے گنہگار ہوگا، نیزاگر حاجی نے طلوع فجرسے لے کر طلوع شمس تک کوئی بھی وقت مزدلفہ میں گزارا ہو تو اس  کا وقوف مزدلفہ پورا ہوا ہے لیکن اگراس دوران (طلوع فجر سے طلوع شمس تک )اس نے بغیر کسی عذر کے وقوف نہ  کیا ہو تواس پردم لازم ہے۔

2۔ جمرات کی رمی بالوکالہ بغیر عذر کے جائز نہیں البتہ بیمار،بچے،مجنون اورمعذورکی جانب سے جائز ہے ،لہذا مسؤلہ صورت میں اگر حاجی بغیرعذر کے خادم کے ذریعے رمی کر چکاہوتو یہ شرعاً معتبر نہیں اس لیے دم لازم ہوگا۔

3۔ طواف اور سعی بین الصفا والمروہ کی ادائیگی میں مشی (پید ل چلنا) واجب ہے لہذا اگر کسی نے بغیر کسی عذر کے طواف اور سعی ویل چیئر کے ساتھ ادا کیا تواسے چاہیے کہ طواف اورسعی کا اعادہ کرے اوراگر اعادہ نہ کیا تو اس پر طواف اورسعی کےدو دم واجب ہوں گے۔

4۔ جو حجاج حکومتی اسکیم کی بجائے پرائیویٹ کمپنیوں یا خصوصی ویزے سے جا کر متمتع  یا قارن بن کر فریضہ حج ادا کررہے ہوں ان پر چونکہ فی الحال کسی کی طرف سے قربانی کی کوئی پابندی نہیں ہوتی، انہیں قربانی خود کرنے کا مکمل اختیارہوتاہے اس لیے ان کے لیے رعایت ترتیب کے سوا کوئی چارہ نہیں، ان پر لازم  ہے کہ رمی، جمرہ عقبہ اور حلق میں ترتیب کی مکمل رعایت  رکھیں اورجب تک ان کی قربانی کا جانور ذبح نہ ہوا ہو حلق نہ کریں ورنہ ترتیب کو بگاڑنے کی وجہ سے ان پردم لازم ہوگا۔

5۔منی وعرفات کے قیام کے دوران سہولت کے ساتھ خیمے میں رہنے یا ہوٹل میں رہنے میں کوئی گناہ نہیں۔

6۔ارکان حج میں وقوف عرفہ یا طواف زیارت چھوڑنے  کی تلافی دم سے نہیں ہوتی بلکہ حج کی قضاء لازم ہوگی جبکہ وقوف مزدلفہ ،سعی بین الصفا والمروۃ ،رمی جمرات،متمتع اور قارن کے لیے قربانی، آفاقیوں  کے لیے طواف وداع، معذورین کے علاوہ سعی اورطواف میں مشی (پیدل چلنا) سب واجبات ہیں اس لیے ان میں سے کوئی ایک رکن  چھوڑنے سے دم لازم آتاہے چاہے عمداً  چھوڑے یا سھواً ہر صورت میں دم لازم آتا  ہے، حج فاسد نہیں ہوتا۔

 

وأما زمانه فما بين طلوع الفجر من يوم النحر، وطلوع الشمس فمن حصل بمزدلفة في هذا الوقت فقد أدرك الوقوف، سواء بات بها أو لا، ومن لم يحصل بها فيه فقد فاته الوقوف، وهذا عندنا.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:2،ص:136)

(و) الحج (فرضه) ثلاثة (الإحرام) وهو شرط ابتداء، وله حكم الركن انتهاء حتى لم يجز لفائت الحج استدامته ليقضي به من قابل (والوقوف بعرفة) في أوانه سميت به لأن آدم وحواء تعارفا فيها (و) معظم (طواف الزيارة) وهما ركنان.(رد المحتار على الدر المختار،ج:2،ص:466)

(وواجبه) نيف وعشرون ... (والمشي فيه لمن ليس له عذر) يمنعه منه، (وبداءة السعي بين الصفا والمروة من الصفا) ولو بدأ بالمروة لا يعتد بالشوط الأول في الأصح (والمشي فيه) في السعي (لمن ليس له عذر). (قوله والمشي فيه إلخ) فلو تركه بلا عذر أعاده وإلا فعليه دم لأن المشي واجب عندنا.(رد المحتار على الدر المختار،ج:2،ص:469)

(‌ثم ‌وقف) ‌بمزدلفة، ‌ووقته ‌من ‌طلوع ‌الفجر ‌إلى ‌طلوع ‌الشمس، ولو مارا كما في عرفة، لكن لو تركه بعذر كزحمة. (قوله ثم وقف) هذا الوقوف واجب عندنا لا سنة، والبيتوتة بمزدلفة سنة مؤكدة إلى الفجر لا واجبة.(رد المحتار على الدر المختار،ج:2،ص:511)

أما فرائض الحج :وهي أعم من الشرائط فثلاث:الأول:الإحرام قبل الوقوف بعرفة ... والثاني : الوقوف بعرفة في وقته ولو ساعة.والثالث:طواف الزيارة في وقته ومكانه ... وحكم الفرائض أنه لا يصح الحج إلا بها ولو ترك واحدا منها لايجبر بدم ... وأما واجباته فستة:1.وقوف جمع في وقته ولو لحظة.2.والسعي بين الصفا والمروة.3.ورمي الجمار.4.والذبح للقارن والمتمتع.5.والحلق أوالتقصير في أوانه ومكانه.6.وطواف الصدر للآفاقي غير الحائض والنفساء ... وكل ماهو واجب فحكمه وجوب الدم بتركه بلا عذر وجواز الحج سواء تركه عمدا أو سهوا أو خطأ أو جاهلا أو عالما لكن العامد اثم ... {حكم السنن} وحكمها الإساءة بتركها وعدم لزوم الجزاء.(غنية الناسك،ص:82،83)

وأما ترك الواجبات بعذر فلا شىء عليه.( غنية الناسك،ص:239)

السادس أن يرمي بنفسه،فلا تجوز النيابة  فيه عند القدرة ...  فلو رمى عن مريض بأمره أو مغمى عليه ولو بغير أمره أو صبي أو معتوه أو مجنون جاز، والأفضل أن توضع الحصاة في أكفهم فيرمونها أو يرمونه بأكفهم، ولو رمى عنهم يجزئهم ذلك ولا يُعاد إن زال العذر في الوقت ولا فدية عليهم.(غنية الناسك،باب الرمي،فصل في الرمي،ص:300)


فتویٰ نمبر : 10788/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں