بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بغیرنیت اوراحرام کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونا


سوال

تین دوست مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ  آگئے ان میں سے دوآدمیوں نے عمرہ کی نیت کرکے ذی الحلیفہ سے احرام باندھا جبکہ تیسرے ساتھی کسی اور کام کی غرض سے مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہواعمرہ کی نیت نہیں تھی توکیا اس پر دم واجب ہے یا نہیں؟

جواب

جاننا چاہیے کہ اگر کوئی آفاقی  شخص حج یا عمرہ کی نیت سے یا کسی دوسرے ارادہ سے میقات سے بغیر احرام کے تجاوز کرکے مکہ میں  داخل ہوجائے تواسے چاہیے کہ میقات سے باہر جاکر حج یا عمرہ کے احرام کے ساتھ  دوبارہ داخل ہوجائے ورنہ اس پر دم واجب ہوگا۔

صورت مسؤلہ  میں جب تیسراشخص بغیراحرام کے مکہ مکرمہ میں داخل ہوا ہے تواگرچہ کسی دوسری غرض سے داخل ہوا ہوپھر بھی اس پر احرام کے ساتھ جانالازم تھا اب اسے چاہیے کہ میقات سے باہر جاکر حج یا عمرہ  کے احرام کےساتھ دوبارہ مکہ مکرمہ داخل ہو کروہ حج یا عمرہ ادا کرے ورنہ اس پر دم لازم ہوگا۔

 

(قوله: ‌من ‌جاوز ‌الميقات ‌غير ‌محرم ثم عاد محرما ملبيا أو جاوز ثم أحرم بعمرة ثم أفسد، وقضى بطل الدم) أي من جاوز آخر المواقيت بغير إحرام ثم عاد إليه، وهو محرم، ولبى فيه فقد سقط عنه الدم الذي لزمه بالمجاوزة بغير إحرام؛ لأنه قد تدارك ما فاته.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،ج:3،ص:51)

اٰفاقی مسلم مکلف أراد دخول مکة أو الحرم ولو لتجارۃ أو سیاحة وجاوز اٰخر مواقیته غیر محرم ثم أحرم أو لم یحرم أثم ولزمه دم وعلیه العود إلی میقاته الذی جاوزہ أو إلی غیرہ أقرب أو أبعد وإلی میقاته الذی جاوزہ أفضل.(غنیة الناسک:فصل فی مجاوزة الاٰفاقی وقته، ص: 60)


فتویٰ نمبر : 10788/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں