بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
Pso کی جانب سے اپنے صارف کو مخصوص مقدار میں پٹرول خریدنے پر اضافی رقم دینا
سوال
Pso،نے digicash , کارڈ متعارف کرایا ہے جو ڈیبٹ کارڈ کی طرح ہوتا ہے ابتداء 500روپے دے کر یہ کارڈ خرید نا پڑتاہے اور پھر پیسے ڈالنے پڑتے ہیں ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ جب بھی digicash کارڈ کی مددسے ، pso اگر کوئی بھی پراڈکٹ خریداجاتا ہے تو وہ کچھ پوائنٹ دیتے ہیں ،مثلا 100،روپے پٹرول خریدنے پر ایک پوائنٹ ملتا ہے اس پوائنٹ کی قیمت پچاس پیسے ہوتی ہے اگر ایک ہزار کا پٹرول ڈلوایا تو دس پوائنٹ ملیں گے جو پانچ روپے کے برابر ہو تے ہیں ،کیا ان پوائنٹ کا استعمال درست ہے؟
اسی طرح کمپنی کی طرف سے آفر آتی رہتی ہے کہ فلاں تاریخ تک کسی نے اگر اتنے کا پٹرول ڈلوایا تو اس کو 150:روپے ملیں گے تو اب ان پیسوں کو استعمال کرنا شرعا کیسا ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی ادارہ کارڈ جاری کرےجس میں رقم ڈالنے پر اس میں موجود رقم کی مقدار میں خریداری کی جاسکتی ہو ، اور اس کے ذریعے خریداری پر کچھ پوائنٹ دیے جاتے ہوں تو ان پوائنٹ کےاستعمال کی گنجائش ہے ،کیونکہ اس کی حیثیت ڈسکاونٹ(قیمت میں رعایت )کی ہوتی ہے اور ڈسکاونٹ لینا شرعا جائز ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق pso کا digicash کارڈ بھی اس نوعیت کا ہے کہ پٹرول پمپ پر کارڈ کے ذریعے پٹرول ڈلوانے پر صارف کو جو اضافی پوائنٹ دیے جاتے ہیں،وہ کمپنی کی طرف سے قیمت میں رعایت ہے اس لیے اس کو استعمال میں لانا شرعا جائز ہے۔
قال: "ويجوزللمشتري أن يزيد للبائع في الثمن ويجوز للبائع أن يزيد للمشتري في المبيع، ويجوز أن يحط من الثمن ويتعلق الاستحقاق بجميع ذلك" فالزيادة والحط يلتحقان بأصل العقد عندنا. (الهداية، ج:3، ص:60)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں