بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

صاحب استطاعت شخص کی بیٹیوں کونفلی صدقہ دینا


سوال

اگر کسی عورت کا شوہر اسے ناراضگی کی حالت میں میکے چھوڑ دے اور بچوں کا خرچ بھی نہ دے،  جبکہ اس کی دو چھوٹی  بیٹیاں بھی ہوں  اوران کا والد  مالی طور پر صاحبِ حیثیت ہو، لیکن عورت کے میکے کے حالات بھی مالی طور پر خراب ہوں ، تو کیا ایسی صورت میں ان بچوں کو نفلی صدقہ کے پیسوں سے کچھ دیا جا سکتا ہے؟ خاص طور پر اگر بچے شرعی اعتبار سے صاحبِ نصاب نہ ہوں، لیکن ان کا والد مالدار ہو اور خرچ نہ دیتا ہو؟

جواب

 واضح رہے کہ  باپ پر اپنے چھوٹے نا بالغ بیٹوں كا نفقہ ان کے بلوغ تک واجب هے جبکہ بیٹیوں کا ان کی نفقہ ان شادی تك باپ کے ذمہ لازم ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  اگرکوئی  شخص مالی وسعت کے باوجود بچیوں کو خرچ نہ دیتا ہو تو اس کی نابا لغ  بچیوں کونفلی  صدقہ کی رقم دینے میں کوئی قباحت نہیں ،البتہ زکوۃ یا صدقات واجبہ دینا جائز نہیں ۔

 

نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد...فإن أبى أن يكتسب وينفق عليهم يجبر على ذلك ويحبس كذافي المحيط... الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب ولم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا أو يؤاجرهم وينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل أو خدمة...إذا كان الابن من أبناء الكرام ولا يستأجره الناس فهو عاجز وكذا طلبة العلم إذا كانوا عاجزين عن الكسب لا يهتدون إليه لا تسقط نفقتهم عن آبائهم إذا كانوا مشتغلين بالعلوم الشرعية...ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال... ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة أو مرض ومن يقدر على العمل لكن لا يحسن العمل فهو بمنزلة العاجز.(الفتاوی الھندیة،کتاب الطلاق،باب الحضانة، ج: 5،ص : 267)

وأما ‌صدقة ‌التطوع فيجوز صرفها إلى الغني لأنها تجري مجرى الهبة۔(بدائع الصنائع ،کتاب الزکوۃ،فصل الذي یرجع إلی المؤدی،ج:2،ص:47)


فتویٰ نمبر : 3799/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں