بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
سر كے اطراف میں قلم کو بلیڈ سے صاف کرنا
سوال
سر کےبالوں کے ایک حصے کو جسے "قلم" کہتے ہیں شیو کروانا کیسا ہے؟ جبکہ سر کے باقی بال لمبے ہوں،کیا یہ "قَزَع" کے حکم داخل ہوگا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ جو چیزیں سنن عادیہ میں سے ہوں جیسے لباس کی ہیئت اور سر کے بال وغیرہ ،اس میں نبی کریم ﷺ کی اتباع کرنا مستحسن ہے،لیکن امرِ لازم نہیں ،البتہ اس میں ایسی صورت اختیار کرنا جس سے کفار کی مشابہت لازم آتی ہو مکروہ ہے، چنانچہ احادیث مبارکہ میں قزع سے منع فرمایا گیا ہے کیونکہ اس میں کفار کےساتھ مشابہت لازم آتی ہے اور قزع کا مطلب یہ ہےکہ سر کے بالوں کے بعض حصے کو چھوڑا جائے اور بعض حصے کو منڈوایا جائے، یعنی قزع کا حکم سر کے بالوں کے ساتھ خاص ہے،البتہ كانوں كے اوپر جو بال ہوتے ہیں جسے عرف میں"قلم" کہتے ہیں، اس کو بلیڈ سے صاف کروانے پر قزع کا اطلاق نہیں ہوتا، لہذا اس ميں کسی قسم کی کراہت نہیں ۔
عن نافع مولى عبد الله: أنه سمع ابن عمر رضي الله عنهما يقول:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن القزع. قال عبيد الله: قلت: وما القزع؟ فأشار لنا عبيد الله قال: إذا حلق الصبي، وترك ها هنا شعرة وها هناوها هنا، فأشار لنا عبيد الله إلى ناصيته وجانبي رأسه.قيل لعبيد الله: فالجارية والغلام؟ قال: لا أدري، هكذا قال: الصبي.قال عبيد الله: وعاودته، فقال: أما القصة والقفا للغلام فلا بأس بهما، ولكن القزع أن يترك بناصيته شعر، وليس في رأسه غيره، وكذلك شق رأسه هذا وهذا. قوله "أما القصة والقفا للغلام فلا بأس بهما". القصة بضم القاف ثم المهملة والمراد بها هنا شعر الصدغين والمراد بالقفا شعر القفا والحاصل منه أن القزع مخصوص بشعر الرأس وليس شعر الصدغين والقفا من الرأس.(فتح الباري لابن حجر، ج:11، ص:561)
فإن قلت ما الحكمة في النهي عن القزع قلت تشويه الخلقة وقيل زي اليهود وقيل زي أهل الشر والدعارة. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج:22، ص:59)
وهذا الذي فسره به نافع أو عبيد الله هو الأصح وهو أن القزع حلق بعض الرأس مطلقا ومنهم من قال هو حلق مواضع متفرقة منه والصحيح الأول لأنه تفسير الراوي وهو غير مخالف للظاهر فوجب العمل به وأجمع العلماء على كراهة القزع إذا كان في مواضع متفرقة إلا أن يكون لمداواة ونحوها وهي كراهة تنزيه وكرهه مالك في الجارية والغلام مطلقا وقال بعض أصحابه لابأس به في القصة والقفا للغلام ومذهبنا كراهته مطلقا للرجل والمرأة لعموم الحديث. (شرح النووي على مسلم، ج:9، ص:5759)
قال أبو عمر: فيما حكاه أحمد بن حنبل، رحمه الله، أنه أحصى من الصحابة ثلاثة عشر رجلا لهم شعر، دليل على أن غيرهم -وهم الأكثر- لم يكن لهم شعر على تلك الهيئة، والشعر الذي يشير إليه هي الجمة والوفرة. وفي هذا دليل على إباحة الحلق، وعلى حبس الشعر؛ لأن الهيئتين جميعا قد أقر عليهما رسول الله صلى الله عليه وسلم أصحابه، ولم ينه عن شيء منهما، فصاركل ذلك مباحا بالسنة. (التمهيد لابن عبد البر، ج:6، ص:78)
سنة الهدى: وهي ما تكون إقامتها تكميلا للدين، وتتعلق بتركها كراهة أو إساءة، كصلاة الجماعة، والأذان، والإقامة، ونحوها، وذلك لأن النبي صلى الله عليه وسلم واظب عليها على سبيل العبادة، وتسمى أيضا السنة المؤكدة. سنن الزوائد:وهي التي لا يتعلق بتركها كراهة ولا إساءة، لأن النبي صلى الله عليه وسلم فعلها على سبيل العادة، فإقامتها حسنة، كسير النبي صلى الله عليه وسلم في لباسه وقيامه، وقعوده وأكله، ونحو ذلك. (الموسوعة الفقهية ، ج:25، ص:265)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں