بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دورانِ نماز سمارٹ واچ کی اسکرین پر جاندار کی تصویر واضح ہونے سے نماز کا حکم


سوال

اگرسمارٹ واچ (smart watch) کی اسکرین پر کسی جاندار کی تصویر ہو، اور دورانِ نماز اسکرین روشن ہونے کی وجہ سے وہ تصویر واضح نظر آنے لگے، تو کیا اس سےنماز پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر نمازی کی انگوٹھی، گھڑی یاکپڑوں وغیرہ پر جاندار کی تصویر ہو، اور وہ تصویراس قدر بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے شخص کوواضح نظر آتی ہو، تو ایسی صورت میں نما زمکروہِ تحریمی ہوگی، البتہ اگر تصویر اتنی چھوٹی ہوکہ کھڑا شخص اس کو دیکھے تو وہ واضح نظر نہ آئے، یا وہ تصویر کپڑے وغیرہ سے ڈھکی ہوئی ہو، تو اس صورت میں نماز مکروہ نہ ہوگی۔ نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ اسکرین پر ظاہر ہونے والی ڈیجیٹل تصویربھی تصویر ہی کی ایک جدیدقسم ہے، لہٰذا اس کا حکم بھی  تصویر کی طرح ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص کے ہاتھ پر سمارٹ واچ ہو اور دورانِ نماز اس کی ا سکرین روشن ہوکرجاندار کی تصویر واضح طورپرنظر آنے لگے، تو ایسی صورت میں نماز مکروہ تحریمی ہوجائےگی، تاہم اگر تصویر اس قدرچھوٹی ہوکہ اس کا خدوخال واضح نہ ہو، یا اسکرین کپڑے وغیرہ سےڈھکی ہوئی ہو، تو ایسی صورت میں نماز بلا کراہت درست ہوگی ۔

 

عن عائشة رضي الله عنها: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (‌إن ‌أصحاب ‌هذه ‌الصور يعذبون يوم القيامة، ويقال لهم: أحيوا ما خلقتم). (صحيح البخاري، كتاب التوحيد، باب قول الله تعالى: {والله خلقكم وما تعملون}، رقم الحديث:7118 ج:6، ص:2747)

(‌ولبس ‌ثوب ‌فيه ‌تماثيل) ذي روح، وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) ولو في وسادة منصوبة لا مفروشة. (واختلف فيما إذا كان) التمثال (خلفه، والاظهر الكراهة) (و) لا يكره (لو كانت تحت قدميه) أو محل جلوسه لانها مهانة (وفي يده) عبارة الشمني بدنه لانها مستورة بثيابه (أو على خاتمه) بنقش غير مستبين. قال في البحر: ومفاده كراهة المستبين لا المستتر بكيس أو صرة أو ثوب آخر، وأقره المصنف (أو كانت صغيرة) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما، وهي على الارض، ذكره الحلبي (أو مقطوعة الرأس أو الوجه) أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه (أو لغير ذي روح لا) يكره. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:647)

‌وصورة ‌الحيوان ‌إن ‌كانت ‌صغيرة ‌بحيث ‌لا ‌تبدو ‌للناظر من بعيد لا يكره اتخاذها والصلاة إليها؛ لأن هذا مما لا يعبد، وقد صح أنه كان على خاتم أبي هريرة رضي الله عنه ذبابتان، وكان على خاتم أبي موسى الأشعري كركيان، وكان على خاتم دانيال صلوات الله عليه صورة الأسد، وإن كانت الصورة كبيرة بحيث تبدو للناظر من بعد؛ يكره إمساكها والصلاة إليها؛ لأن إمساك الصورة تشبه بمن يعبد الصنم، والصلاة إليها يشبه تعظيمها وعبادتها فتكره. (المحيط البرهاني، كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الرابع في الصلاة والتسبيح وقراءة القران والذكر والدعاء ورفع الصوت عند قراءة القران والذكر والدعاء، ج:5، ص:309)


فتویٰ نمبر : 10780/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں