بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دعائے قنوت کی جگہ سورۃ اخلاص پڑھنا


سوال

کیا نمازِ وتر میں دعائے قنوت کی جگہ سورۃ الاخلاص یا کوئی دوسری دعا پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہےکہ نمازِ وتر میں مخصوص دعا "اللّٰهم إنا نستعینك ... الخ" پڑھنا بہترہے لیکن واجب نہیں۔ لہٰذا اگر "اللّٰهم إنا نستعِینك" کی جگہ کوئی بھی  ایسی ماثور دعا پڑھ لی جائے جو کلام الناس کے مشابہ نہ ہو، تو واجب ادا ہو جائے گا ۔

لہذا صورت مسؤلہ میں نماز وتر کی آخری رکعات میں دعائےقنوت کی جگہ سورۃاخلاص یا دوسری  ایسی دعا پڑھی جاسکتی ہے جوکلام الناس کے مشابہ نہ ہو۔

 

‌وليس ‌في ‌القنوت دعاء مؤقت. كذا في التبيين والأولى أن يقرأ " اللهم إنا نستعينك " ويقرأ بعده " اللهم اهدنا فيمن هديت " ومن لم يحسن القنوت يقول: {ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار}  . كذا في المحيط أو يقول: اللهم اغفر لنا ويكرر ذلك ثلاثا وهو اختيار أبي الليث. كذا في السراجية.(الفتاوى  الهندية،كتاب الصلاة،الباب الثامن في صلاةالوتر،ج:1،ص:111)

وفی مقدمۃ الغزنوية: إن کان لایحسن القنوت یقرأ ثلاث مرات ’’قُلْ ھُوَ اﷲُ اَحَدٌ‘‘ أو ثلاث مرات ’’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا ولِلْمُوْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ‘‘۔)السعاية في كشف ما في شرح الوقاية،باب صفة الصلوة،ج:2،ص139)


فتویٰ نمبر : 10787/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں