بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بکریوں کے پالنے میں سرمایہ اور منافع کی تقسیم


سوال

ایک شخص کےپاس ایک لاکھ روپے ہیں وہ اس رقم میں بکریاں خریدناچاہتا ہے اور کسی دوسرے رشتہ دار کو پالنے کیلئے حوالہ کرنا چاہتاہے اس مقصد کےلیے کہ وہ اس کو پالےاورکل اس کو نفع پر   بیچے،توآیا اب ان دونوں کے درمیان صرف مال  مویشی کانفع تقسیم  ہوگایانفع کے ساتھ  ساتھ وہ ایک لاکھ  روپے بھی تقسیم ہوگا؟

جواب

واضح ہو کہ نفع کی تقسیم دو بندوں میں اس قت ہوتی ہے جب ان کے درمیان شراکت کا عقد ہو اور شراکت کے لیے رأس المال (جو چیز بیچی جائے گی) میں دونوں کی ملکیت ضروری ہے۔ اگر کسی ایک کی ملکیت میں پیسےہوں اوراس پر بکریاں خریدی جائیں ور دوسرا اس کو صرف پال رہا ہو تو اس  کی بنا پروہ بکریوں کےمنافع میں شریک نہیں ہوسکتاالبتہ وہ اس پالنے کے عوض "اجرت"لے سکتا ہے۔اور 'اجرت' کا تعین پہلے سے ضروری ہے، اگر اجرت متعین نہیں ہوئی، بلکہ مجہول رہی تو ایسا عقد کرنا بھی ناجائز ہے؛ کیوں کہ یہ فریقین کے جھگڑے کا سبب بن سکتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں بکریاں پالنے کے عوض اس کو بیچنے کے بعدحاصل  ہونے والے نفع میں  حصہ لینا شرعاً جائز نہیں ؛ کیوں کہ یہ بات حتمی نہیں ہے کہ کتنا نفع ہوگا، لہذا اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ  جائز نہیں،اس کی جائز صورت یہ ہے کہ  بکریاں پالنے کی اجرت پہلے سے متعین کرلی جائے،مثلاً یہ کہ ہر ماہ پالنے کے عوض 5 ہزار روپے پالنے والے کو ملیں گے ۔اس صورت میں پالنے والے کو مقررہ اجرت ملے گی اوربکریاں بیچنے کے بعد اس کا جو بھی نفع یا نقصان ہو، وہ بکریوں  کے مالک ہی کا ہوگا۔

 

و الأصل أنّ الربح إنما يستحق عندنا إما بالمال وإما بالعمل وإما بالضمان، أما ثبوت الاستحقاق بالمال فظاهر؛ لأن الربح نماء رأس المال فيكون لمالكه، ولهذا استحق رب المال الربح في المضاربة وأما بالعمل، فإن المضارب يستحق الربح بعمله فكذا الشريك. ( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب الشركة،فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة،ج:6،ص:62)

دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة الفصل الرابع في فساد الإجارة،ج:4،ص:445،446)

وأما ‌بيان ‌شرائطها ‌فنقول ‌يجب أن تكون الأجرة معلومة، والعمل إن وردت الإجارة على العمل، والمنفعة إن وردت الإجارة على المنفعة، وهذا لأن الأجرة معقود به والعمل أو المنفعة معقود عليه، وإعلام المعقود به وإعلام المعقود عليه شرط تحرزاً عن المنازعة كما في باب البيع۔( المحيط البرهاني في الفقه النعماني،كتاب الإجارة،الفصل الأول:في بيان الفاظ التي تنعقدبها الإجارة ،ج:7،ص:395)


فتویٰ نمبر : 3968/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں