بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زندہ والدین کے لیے ایصال ثواب


سوال

 میرے والدین زندہ ہیں،میں ان کی مالی خدمت نہیں کرسکتا، کیونکہ میں زیرِ تعلیم ہوں، مگرمیں اپنے نوافل، صدقاتِ نافلہ، تلاوت، اذکار اور دیگر نیک اعمال کا ثواب والدین کے نام نیت کے ذریعے منسوب کردیتا ہوں، کہ اللہ پاک کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں سب کو ثواب پہنچے گا، کیا والدین کے حیات ہونے کی حالت میں ایسا کرنا درست ہے،اور کیا ان تک ثواب پہنچتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں آدمی کااپنے نیک اعمال کا ثواب دوسرے آدمی کو بخشنا جائز ہے، بلکہ ایک مستحسن امر ہے، اوراس سے نیک عمل کرنے والے کے ثواب میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہوگی، لہذا صورت مسئولہ میں آدمی کا اپنے نوافل، صدقاتِ نافلہ، تلاوت، اذکاراور دیگر نیک اعمال کا ثواب زندہ والدین کوبخشنا جائز ہے۔

 

(قوله فللإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره عند أهل السنة والجماعة) سواء كان المجعول له حيا أو ميتا من غير أن ينقص من أجره شيء.(حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح، باب في أحكام الجنائز، فصل في زيارة القبور، ج:1، ص:514)


فتویٰ نمبر : 6541/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں