بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تبلیغی اجتماع میں جماعت کے وقت درمیانی جگہوں کو خالی چھوڑنا


سوال

تبلیغی اجتماع گاہ میں منتظمین کی جانب سے پنڈال کےاندر، درمیان میں شمالاً و جنوباً ایک گزرگاہ چھوڑی گئی ہے، جس میں لوگوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔ اگر کسی شخص کو تاریکی یا ہجوم کی وجہ سے یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آیا اس گزرگاہ میں صفیں فی الواقع متصل بنائی گئی ہیں یا نہیں، اور اس نے وہاں باجماعت نماز ادا کرلی- تو سوال یہ ہے کہ اس کی نماز درست ہوگی یا نہیں؟ اسی ضمن میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ تبلیغی اجتماع گاہ کے حکم کو اتصالِ صفوف کے لحاظ سے صحراء (کھلے میدان) کے حکم میں شمار کیا جائے یا عیدگاہ یا مکانِ واحد کے حکم میں؟ فقہاء کرام کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ اتحادِ مکان کا مدار عرف پر ہے۔ چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: لأن ذلك يوجب اختلاف المكانين عرفًا مع اختلافهما حقيقة فيمنع صحة الاقتداء. اسی طرح امداد الأحکام میں ہے: لیکن اتحادِ مکان کا مدار عرف پر ہے؛ اگر عرفاً مقتدی کا مکان امام کے مکان سے متحد سمجھا جائے تو اقتداء صحیح ہے، اور اگر عرفاً متحد نہ ہو تو اقتداء درست نہیں۔ (جلد ۱، حصہ دوم، ص ۵۳۰، کتاب الصلاۃ) اب سوال یہ ہے کہ تبلیغی اجتماع گاہ عرفاً مکانِ واحد کے حکم میں داخل ہے یا نہیں؟ اور اتصالِ صفوف کے حوالے سے اس کا حکم کیا ہوگا؟ اس بارے میں کتاب النوازل (جلد ۴) از مفتی سید سلمان منصورپوری میں یہ تصریح موجود ہے کہ: "تبلیغی اجتماع جو بڑے پنڈال میں منعقد کیا جاتا ہے، وہ مکانِ واحد کے حکم میں شمار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اگر اجتماع کا پنڈال باقاعدہ مسقّف (چھت والا) ہو اور اس کی حدود متعین ہوں، تو وہ عرفاً مکانِ واحد کے حکم میں ہوگا۔ اس صورت میں اتصالِ صف کے بغیر بھی نماز کراہت کے ساتھ درست ہوجائے گی۔ البتہ اگر صفیں اس متعینہ پنڈال سے باہر تک پھیل جائیں تو اس جماعت میں شامل ہونے کے لیے اتصالِ صفوف ضروری ہوگا، جیسا کہ صحراء یا میدان کے حکم میں ہوتا ہے۔ اس کے بغیر امام کے ساتھ نماز درست نہ ہوگی۔" لہٰذا مذکورہ فتویٰ کے مطابق، تبلیغی اجتماع کے مسقّف اور متعینہ پنڈال کے اندر اتصالِ صفوف شرط نہیں، البتہ پنڈال سے باہر صفوں کے لیے اتصالِ صف ضروری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ: کیا آپ حضرات اس فتویٰ کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں، یا اس فتویٰ کا مفہوم کچھ اور ہے؟ براہ کرم اس کی وضاحت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ اقتداء كی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مقتدی اور امام کا مکان ایک ہو، اگر مکان میں اختلاف ہوگا تو اقتداء درست نہ ہوگی اگر چہ مقتدی پر امام کی حالت مشتبہ نہ ہو،  نیز پورا مسجد ایک مکان کے حکم میں  شمار ہوتا ہے اس وجہ سے درمیان میں دو صفوں سے زیادہ  جگہ  خالی ہونے کے باوجود  بھی امام کی اقتدادرست ہوتی ہے اور نماز ادا ہوجائے گی بشرط یہ کہ مقتدی پر امام کی حالت مشتبہ نہ ہوتی ہو، البتہ بلا ضرورت فاصلہ چھوڑنا مکروہ ہے۔ نیز اگر صحرا یا  میدان وغیرہ  میں جماعت ادا ہو رہی ہو تو چونکہ یہ ایک مکان کے حکم میں نہیں اس وجہ سے اقتداء کی صحت  کے لیے  ضروری ہوگا کہ مقتدی اور امام کے درمیان دو صف یا اس سے زیادہ کا فاصلہ نہ ہو۔

صورتِ مسئولہ میں  ہماری معلومات کے مطابق  تبلیغی اجتماع جس میدان میں ہوتا ہے وہ اتنا وسیع وعریض ہوتا ہے کہ جس میں لاکھوں لوگ بیک وقت حاضر ہو تے ہیں اور باجماعت نمازیں ادا کرتے ہیں، اسی طرح اس میں لوگوں کے چلنے کے لیے وسیع اور کشادہ راستے  بھی ہوتے ہیں، یعنی پورا میدان ایک پنڈال کی شکل میں ہوتا ہے، اس وجہ سے تبلیغی اجتماع کے پورے میدان کو مکان واحد قرار نہیں دیا جا سکتا، چنانچہ اقتدا کی صحت کےلیے ضروری ہوگا کہ امام کی اقتداء کرتے وقت صفوں میں انقطاع نہ ہو، اور  درمیان میں خالی جگہوں کو پُر کرنے کے بعد  بقیہ صفوں کو بنایا جائے۔ نیز صفوں کا یہ اتصال اگر طولاً (لمبائی میں) یا عرضاً (چوڑائی میں) کسی ایک جانب سے بھی برقرار ہو تو اقتداء  درست ہو گی۔

 

قال العلامة الحصكفي رحمه الله( ويمنع من الاقتداء ) ... ( طريق تجري فيه عجلة) آلة يجرها الثور (أو نهر تجري فيه السفن) ولوز ورقا ولو في المسجد ( أو خلاء ) أي فضاء ( في الصحراء) أو في مسجد كبير جدا كمسجد القدس (يسع صفين) فأكثر إلا إذا اتصلت الصفوف فيصح مطلقا .... (والحائل لا يمنع) الاقتداء ( إن لم يشتبه حال إمامه) بسماع أو رؤية (الدر المختار،كتاب الصلاة، باب الإمامة، ص:80)

والخلاصة: إن اختلاف المكان يمنع صحة الاقتداء، سواء اشتبه على المأموم حال إمامه أو لم يشتبه، واتحاد المكان في المسجد أو البيت مع وجود حائل فاصل يمنع الاقتداء إن اشتبه حال الإمام. أما وجود فاصل يسع صفين أو أكثر في الصحراء أو في المسجد الكبير جداً، فيمنع الاقتداء.( الفقه الإسلامي وأدلته، الباب الثانی الصلاة، شروط الإقتداء بالإمامة، ج:2، ص:1249)

قال العلامةالکاساني رحمه الله: ولو اقتدى خارج المسجد بإمام في المسجد إن كانت الصفوف متصلة جاز، وإلا فلا؛ لأن ذلك الموضع بحكم اتصال الصفوف يلتحق بالمسجد هذا إذا كان الإمام يصلي في المسجد، فأما إذا كان يصلي في الصحراء: فإن كانت الفرجة التي بين الإمام والقوم قدر الصفين فصاعدا - لا يجوز اقتداؤهم به؛ لأن ذلك بمنزلة الطريق العام أو النهر العظيم فيوجب اختلاف المكان(بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، ج:1، ص:146)

حتى أنه لو كان بينهما طريق عام يمر فيه الناس أو نهر عظيم لا يصح الاقتداء؛ لأن ذلك يوجب اختلاف المكانين عرفا مع اختلافهما حقيقة فيمنع صحة الاقتداء.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الصلاة، ج:1، ص:145)


فتویٰ نمبر : 11012/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں