بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قادیانیوں کے ذبح کیے ہوئے جانور کے گوشت ،کھال یا اس کی قیمت استعمال کرنے کا حکم


سوال

قادیانیوں کے ذبیحہ  کا کیا حکم ہے؟ قادیانیوں نے قربانی کے نام پر جانور ذبح کیا تو مسلمانوں کے لیے اس گوشت کو استعمال میں لانا جائز ہے یا نہیں؟ 5۔قادیانیوں کے ذبح کردہ جانور کی کھال یا اس کی قیمت لینا مسلمانوں کے لئے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مذبوح جانور حلال ہونےکی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ  اس کا ذبح کرنے والا مسلمان ہو یا اہل کتاب میں سے کوئی ہو(جو اللہ کے نام سے ذبح کرے)،لہذا اگر کوئی غیر مسلم یا غیر کتابی شخص کسی جانور کو  ذبح کرے تو اس کا ذبح کیا ہوا جانور مردار ہوگا جس کا نہ گوشت کھانا جائز ہوگا اور نہ دباغت سے پہلے اس کی کھال یااس کے پیسے استعمال کرنا جائز ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق قادیانی چونکہ کافر اورزندیق ہیں، لہذا ان کےذبح کیےہوئے جانورمردار ہیں، جس کا نہ  گوشت استعمال میں لانا جائز ہے، اور نہ ہی ان کے ذبح کیے ہوئے  جانور کی کھال یااس کی قیمت مسلمانوں کےلیے لینا  جائز ہوگا۔

 

وقد يكون ميتة لسبب فعل آدمي إذا لم يكن فعله فيه على وجه الذكاة المبيحة له... فإنه يتناول سائر وجوه المنافع، ولذلك قال أصحابنا: لا يجوز ‌الانتفاع ‌بالميتة على وجه. (أحكام القرآن للجصاص، سورة البقرة، الآية: 173، باب تحريم الميتة، ج: 1، ص: 130)

قال أصحابنا: لا يجوز ‌الانتفاع ‌بالميتة على أي وجه. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج: 5، ص: 344)

(ومنها) أن يكون مسلما أو كتابيا فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمرتد. (الفتاوى الهندية، كتاب الذبائح، وأما شرائط الذكاة فأنواع، ج: 5، ص: 285)

 قال: "‌ولا ‌يؤكل ‌صيد ‌المجوسي ‌والمرتد ‌والوثني"؛ لأنهم ليسوا من أهل الذكاة على ما بيناه في الذبائح، ولا بد منها في إباحة الصيد بخلاف النصراني واليهودي؛ لأنهما من أهل الذكاة اختيارا فكذا اضطرارا. (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الصيد، فصل في الرمي، ج: 4، ص: 410)

قال رحمه الله (وكل إهاب دبغ فقد طهر) لحديث ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال «أيما إهاب دبغ فقد طهر» وأي نكرة يراد بها جزء ما تضاف إليه وقد وصفت بصفة عامة فتعم ما يؤكل لحمه وما لا يؤكل. [وقال شهاب الدين الشلبي تحته:] قال في معراج الدراية في باب الأسآر: فإن جلد الميتة نجس العين حتى لم يجز بيعه بالاتفاق. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي، كتاب الطهارة، أقسام الماء، الماء المستعمل، ج: 1، ص: 25)


فتویٰ نمبر : 10782/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں