بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قادنیوں سے حاصل شدہ آمدنی میں قربانی کا حکم


سوال

قادیانی اگر کسی مسلمان کو قربانی کرنے کے لیے رقم دیں تو مسلمان کا اس رقم سے اپنے لیے یا ان کے لیے قربانی کرنے کا کیا حکم ہے؟ جو لوگ مسلمان ہیں لیکن قادیانیوں کے ملازم ہیں مثلا ان کی کسی کمپنی/ فیکٹری میں ملازمت کر رہے ہیں ۔ یا ان کی زرعی زمینوں میں کام کرتے ہیں یا ان کی زرعی زمینیں اجارہ پر لے رکھی ہیں ایسے لوگوں کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہےکہ موجودہ دورمیں " قادیانیت"  بہت  بڑا فتنہ ہے جو نبی  اکرم  رسولِ معظم ﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہونے کے ساتھ ساتھ ملک وملت کے غدار ہیں ،قادیانی  نہ صرف یہ کہ دینِ اسلام سے خارج  ہیں، بلکہ قادیانی شرعی احکام کی رو سے مرتد ، زندیق اورملکی آئین کی روسےغیرمسلم ہیں ، اس بنا پرعلماے امت کے ہاں قادیانیوں /مرزائیوں سے خریدوفروخت، تجارت، لین دین، سلام و کلام ، ملنا جلنا، کھانا پینا ، شادی و غمی میں شرکت ، جنازہ میں شرکت ،تعزیت ،عیادت،ان کے ساتھ تعاون اورملازمت سب شریعتِ اسلامیہ میں ممنوع اور حرام ہیں،قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ ان کو توبہ کرانے میں بہت بڑا علاج اور ان کی اصلاح اور ہدایت کا بہت بڑا ذریعہ اور ہر مسلمان کا اولین ایمانی فریضہ ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی نشانی ہے ۔البتہ اگر کوئی بامر مجبوری قادیانیوں کی کمپنی میں  ملازم ہو اورحلال خدمت سرانجام دے رہا ہویابامر مجبوری  ان کی زرعی زمینوں میں کام کرے تو دوسری ملازمت ملنے تک اس کی گنجائش موجود ہے،نیز  کمائی بھی  حلال ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق قادیانیوں سےہدیتا رقم لے کر اپنے لیے قربانی کرنا،یا ان سے پیسے لے کر قربانی میں ان کےساتھ  تعاون کرنا ان کی حوصلہ افزائی اور تعاون علی الاثم کےپیش نظر  ناجائز ہے،نیز اگر کوئی ان کی زمینیں اجارے پرلے کر ان میں حلال فصل کاشت کرےتو  كاشتكار  کی  آمدنی فی نفسہ حلال ہونے کے ناطے اس آمدنی  سے قربانی جائز ہوگی ،البتہ مسلمانوں کو چاہیے کہ آئندہ کےلیے قادیانیوں کی زمینیں اجارے پر لینے سےاحتراز کریں ، اسی طرح بامر مجبوری ان کی  کمپنیوں میں حلال  ملازمت اور ان کی زرعی زمینوں میں حلال طریقے سے کام کرنے سے جو آمدنی حاصل ہوجائے تو وہ فی نفسہ حلال ہے جس کی وجہ سےان ملازمین اور کام کرنے والوں کی قربانی جائز ہوگی، تاہم ان  ملازمین کواپنے لیے دوسری جگہوں میں ملازمتیں ڈھونڈنی چاہیے، تاکہ سادہ لوح مسلمان کہیں ان مکار  قادیانیوں کی دام تزویر میں پھنس کر ایمان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں، البتہ  عام حالات میں   ان کے ساتھ ملازمت  ناجائز ہے،لہذا  بغیر مجبوری اور شدید ضرورت کے  قادیانیوں  کے ساتھ ملازمت اورکام کرنے سے احتراز ضروری ہے۔

 

‌‌(باب هل يؤاجر الرجل نفسه من مشرك في أرض الحرب)،أي: ‌هذا ‌باب ‌يذكر ‌فيه: ‌هل ‌يؤجر ‌الرجل ‌المسلم ‌نفسه ‌من ‌رجل مشرك في دار الحرب؟ ولم يذكر جواب الاستفهام، لأن حديث الباب يتضمن إجارة خباب نفسه، وهو مسلم إذ ذاك في عمله للعاص بن وائل وهو مشرك، وكان ذلك بمكة، وكانت مكة إذ ذاك دار حرب، وأطلع النبي صلى الله عليه وسلم على ذلك فأقره، ولكنه يحتمل أن يكون كان ذلك لأجل الضرورة، أو كان ذلك قبل الإذن في قتال المشركين ومنابذتهم، وقبل الأمر بمنع إذلال المؤمن نفسه. وقال المهلب: كره أهل العلم ذلك إلا للضرورة بشرطين: أحدهما: أن يكون عمله فيما يحل للمسلم، والآخر: أن لا يعينه على ما هو ضرر على المسلمين، وقال ابن المنير: استقرت المذاهب على أن الصناع في حوانيتهم يجوز لهم العمل لأهل الذمة، ولا يعتد ذلك من الذلة، بخلاف أن يخدمه في منزله وبطريق التبعية له. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، کتاب الإجارة، باب هل يؤاجر الرجل نفسه من مشرك في أرض الحرب، ج: 12، ص: 94)

باب الاستعانة بأهل الذمة: قال الله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم} الآية. قال أبو بكر بطانة الرجل خاصته الذين يستنبطون أمره ويثق بهم في أمره; فنهى الله تعالى المؤمنين أن يتخذوا أهل الكفر بطانة من دون المؤمنين، وأن يستعينوا بهم في خواص أمورهم... وفي هذه الآية دلالة على أنه لا تجوز الاستعانة بأهل الذمة في أمور المسلمين من العمالات والكتبة. وقد روي عن عمر أنه بلغه أن أبا موسى استكتب رجلا من أهل الذمة، فكتب إليه يعنفه، وتلا: {يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم}، أي لا تردوهم إلى العز بعد أن أذلهم الله تعالى. (أحكام القرآن للجصاص، سورة آل عمران: 118، ج: 2، ص: 46)

مطلب: في الاستعانة بالمشركين، قوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا الذين اتخذوا دينكم هزوا ولعبا} ‌فيه ‌نهي ‌عن ‌الاستنصار ‌بالمشركين; لأن الأولياء هم الأنصار. (أحكام القرآن للجصاص، سورة المائدة: 57، ج: 2، ص: 559)

فإن قلت: كيف يكون معروفا داعيا إلى الضلال، وقد اعتبر في مفهومه الشرعي أن يبطن الكفر. قلت: لا بعد فيه، ‌فإن ‌الزنديق ‌يموه ‌كفره ‌ويروج ‌عقيدته الفاسدة ويخرجها في الصورة الصحيحة، وهذا معنى إبطان الكفر، فلا ينافي إظهاره الدعوى إلى الضلال وكونه معروفا بالإضلال اهـ. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الجهاد، باب المرتد، مطلب توبة اليأس مقبولة دون إيمان اليأس، ج: 4، ص: 242)

" قوله: (أتي علي بزنادقة) … إلخ، ‌والزناديق ‌قيل ‌هم: ‌الذين ‌يتعبدون - بالزند - والقاف ملحق في المعربات؛ قلت: والزنديق من يحرف في معاني الألفاظ، مع إبقاء ألفاظ الإسلام كهذا اللعين في القاديان، يدعي أنه يؤمن بختم النبوة، ثم يخترع له معنى من عنده يصلح له بعده الختم دليلا على فتح باب النبوة، فهذا هو الزندقة حقا، أي التغيير في المصاديق، وتبديل المعاني على خلاف ما عرفت عند أهل الشرع، وصرفها إلى أهوائه مع إبقاء اللفظ على ظاهره، والعياذ بالله. (فيض الباري على صحيح البخاري، كتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب حكم المرتد والمرتدة، ج: 6، ص: 401)

"{إن الذين يحادون الله ورسوله أولئك في الأذلين} ... الثانية: استدل مالك رحمه الله من هذه الآية على معاداة القدرية وترك مجالستهم. قال أشهب عن مالك: لا تجالس القدرية وعادهم في الله، لقوله تعالى: لا تجد قوما يؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسوله. قلت: وفي معنى أهل القدر جميع أهل الظلم والعدوان. (الجامع لأحكام القرآن، سورة المجادلة: 58، آية: 22، ج: 17، ص: 308)

ويتعلق بهذه القاعدة قواعد الأولى: ‌الضروريات ‌تبيح ‌المحظورات بشرط عدم نقصانها عنها، ومن ثم جاز أكل الميتة عند المخمصة، وإساغة اللقمة بالخمر، والتلفظ بكلمة الكفر للإكراه، وكذا إتلاف المال، وأخذ مال الممتنع من أداء الدين بغير إذنه، ودفع الصائل ولو أدى إلى قتله، ولو عم الحرام قطرا، بحيث لا يوجد فيه حلال إلا نادرا فإنه يجوز استعمال ما يحتاج إليه، ولا يقتصر على الضرورة. قال الإمام: ولا يرتقي إلى التبسط، وأكل الملاذ بل يقتصر على قدر الحاجة. (الأشباه والنظائر للسيوطي، الكتاب الأول: في شرح القواعد الخمس التي ترجع إليها جميع مسائل الفقه، القاعدة الرابعة: الضرر يزال، ص: 84)


فتویٰ نمبر : 10781/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں