بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اپنی نوکری کسی اور سے کرانا


سوال

میری حال ہی میں ایک نوکری لگی ہے ٹیوب ویل میں، جو ہمارے گھر کے بالکل ساتھ ہے۔ میں ایک بات سوچ رہا ہوں کہ کیا اس نوکری کی تنخواہ میرے لیے حلال ہوگی یا نہیں، جبکہ میں باقاعدہ ڈیوٹی انجام نہیں دیتا؟ میرا ارادہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کا ہے، اور میرے چچا اسی ٹیوب ویل پر کام کرتے ہیں۔ وہ تمام ذمہ داریاں خود ہی سنبھال لیتے ہیں، اس لیے میری وہاں موجودگی کی کوئی خاص ضرورت نہیں رہتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگرکسی نوکری میں ایک شخص کی جگہ دوسرا شخص ڈیوٹی کرے اوراصل ملازم کو تنخواہ دی جائے، توکیا ایسی صورت میں یہ تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں، جب میں خود ڈیوٹی نہیں کرتا اور میرا چچا یا کوئی دوسرا شخص میری جگہ کام کرتا ہے، تو میری یہ تنخواہ حلال ہوگی یا حرام؟

 

جواب

واضح رہے کہ اجیرخاص متعین وقت میں حاضر ہوکراپنی خدمات مستاجرکے حوالے کرنے پراجرت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔اس مدت کے دوران وہ مستاجرکی اجازت کے بغیرنہ اپنا کوئی دوسرا کام کرسکتا ہے اورنہ کسی اورکا، نیزاجارہ خاص میں اجرت کا تعلق اس کی ذات تک محدود رہتا ہے یعنی اس کی صلاحیتوں کوسامنے رکھتے ہوئےاس کی تقرری ہوتی ہے، اس لیےاپنی ذمہ داری دوسرے شخص کوحوالہ کرکےاجرت لینا جائزنہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل چونکہ اجیرخاص کے حکم میں ہے، لہذا وہ اپنی ڈیوٹی کسی اور کےذریعے کرانے کا مجازنہیں۔ نیزاگروہ خود متعلقہ ڈیوٹی سرانجام نہ دے توایسی صورت میں اس کے لیے تنخواہ لینا بھی جائزنہ ہوگا۔ نیز یہ بھی اس کے اختیارمیں نہیں کہ وہ اپنی ڈیوٹی دوسرے کے حوالے کر کےتنخواہ آپس میں تقسیم کریں اور یا تمام تنخواہ اس کو دے۔ اگرخود ملازمت سے قاصرہوتواستعفی دے کہ حکومت کسی دوسرے کا تقرر کرلے۔

 

‌والأجيرالخاص ‌من ‌يكون ‌العقد ‌واردا على ‌منافعه ولا تصير منافعه معلومة إلا بذكرالمدة أو بذكرالمسافة ومنافعه في حكم العين، فإذا صارت مستحقة بعقد المعاوضة لإنسان لا يتمكن من إيجابها لغيره بخلاف الأجيرالمشترك لأن المعقود عليه فيه هوالوصف الذي يحدث في العين بعمله فلا يحتاج إلى ذكره المدة ولا يمتنع عليه تقبل مثل ذلك العمل من غيره .(تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق، كتاب الإجاره، باب ضمان الأجير، ج:6، ص:137)

الأجيرالذي ‌استؤجرعلى ‌أن ‌يعمل ‌بنفسه ليس له أن يستعمل غيره. (شرح المجلة لمحمدخالد الأتاسي، المادة، 571، كتاب الإجاره، ج:2، ص:671)


فتویٰ نمبر : 3972/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں