بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
چھونے سےحرمت مصاہرت کا ثبوت اور خلاصی کے لئے دوسرے مسلک کی طرف رجوع
سوال
چھونے سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے لیے کتنی اور کون کون سی شرائط ہیں؟ اور اگر یہ واقعہ کسی کے ساتھ پیش آجائے تو اس میں دوسرے فقہ پرعمل کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟
جواب
فقہاء کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہےکہ چھونے سے حرمت مصاہرت کے ثبوت کے لیےمندرجہ ذیل شرائط کاپایاجانا ضروری ہے،ان میں سے اگر کوئی شرط مفقود ہو تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔وہ شرائط درج ذیل ہیں.
- چھونےوالے مرد اور مس کی جانے والی عورت کےدرمیان ایسا کوئی حائل نہ ہو جس سے بدن کی حرارت محسوس نہ ہو۔جیسے :موٹا کپڑا وغیرہ۔
- چھوتےوقت شہوت پیدا ہو یا پہلے سے موجود شہوت میں اضافہ ہو اور اس عورت کے ساتھ جماع کی رغبت دل میں پیدا ہوئی ہو،مرد کے لئےشہوت کا معیار یہ ہے کہ آلہ تناسل میں حرکت پیدا ہو جائے اور اگر حرکت پہلے سے موجود ہوتو اس میں چھوتے وقت اضافہ ہو جائے،ضعیف العمر مرد یا عنین(نامرد)کے لئے شہوت کا معیار یہ ہے کہ اس کے دل میں حرکت پیدا ہو جائےاور اگر پہلے سے موجود ہو تو اس میں اضافہ ہو جائے،عورت کے لئے شہوت کا معیار یہ ہے کہ اس کے دل میں اشتہاءاور تلذذ حاصل ہونے لگے اور اگر یہ کیفیت پہلے سے موجود ہو تو اس میں اضافہ ہوجائے۔
- وہ عورت جس کو چھوا جارہا ہو وہ مشتہاۃ یعنی قابل شہوت ہو(کم ازکم نو سال عمر کی ہو)۔
- چھوتے وقت مرد کو انزال نہ ہوا ہو۔ اگر انزال ہو جائے تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔
جہاں تک حرمت مصاہرت ثابت ہونے کی وجہ سے مسلک کی تبدیلی کا تعلق ہےتو یاد رہے کہ ایک دفعہ انسان جب کسی امام کو اپنا مقتدی تسلیم کرکےاس کے بیان کردہ قرآن وحدیث کی تشریحات پر عمل پیرا ہوجائے تو پھر اس کے لیے کسی دوسرے امام کو اپنے لیے مقتدی بنانا درست نہیں ورنہ ہر شخص دین کو اپنے خواہشات کے تابع کردےگااور جس امام کے مسئلے میں خواہش کی تکمیل ہو اس کی پیروی کرے گااور اسی اتباع ہوی اور خواہشات کی تکمیل کی وجہ سے بعض اوقات انسان اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتاہے
اس لیے مسلک کی تبدیلی کا ناجائز قدم اٹھانے کی بجائےاللہ تعالی کی رضاوخوشنودی کومد نظر رکھ کر شریعت کی تعلیمات کے سامنے سر ِتسلیم خم ہونا چاہیے،ان شاءاللہ، اللہ تعالیٰ آسانی کی راہیں کھول دے گا۔
ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة. وكذا لو مس أسفل الخف إلا إذا كان منعلا لا يجد لين القدم، كذا في فتاوى قاضي خان. )الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،ج:1ص:340 (
والشهوة تعتبرعند المس والنظر حتى لو وجدا بغير شهوة ثم اشتهى بعد الترك لا تتعلق به الحرمة.وحد الشهوة في الرجل أن تنتشرآلته أو تزداد انتشارا إن كانت منتشرة، كذا في التبيين. وهوالصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي……….هذا الحد إذا كان شابا قادراعلى الجماع فإن كان شيخا أو عنينا فحد الشهوة أن يتحرك قلبه بالاشتهاء إن لم يكن متحركا قبل ذلك ويزداد الاشتهاء إن كان متحركا، كذا في المحيط.وحد الشهوة في النساء والمجبوب هو الاشتهاء بالقلب والتلذذ به إن لم يكن وإن كان فازدياده، كذا في شرح النقاية للشيخ أبي المكارم .(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،ج:1ص:341)
وكثيرمن المشايخ لم يشترطوا سوى أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها.( فتح القدير للكمال بن الهمام،كتاب النكاح،ج:3،ص:213)
ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة، كذا في التبيين. والفتوى على أن بنت تسع محل الشهوة لا ما دونها، كذا في معراج الدراية.(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،ج:1ص:340)
وشرطه أن لا ينزل حتى لو أنزل عند المس أو النظر لم تثبت به حرمة المصاهرة، كذا في التبيين.(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،ج:1ص:341)
وقطع الكيا الهراسي بِأَنَّهُ يجب على الْعَاميّ أَن يلْزم مذهبا معينا وَاخْتَارَ فِي جمع الْجَوَامِع أَنه يجب ذَلِك وَلَا يَفْعَله لمُجَرّد التشهي بل يخْتَار مذهبا يقلده فِي كل شَيْء يَعْتَقِدهُ أرجح أَو مُسَاوِيا لغيره لَا مرجوحا. (عقد الجيد في أحكام الاجتهاد والتقليد،ص:31)
ولا ريب أن التزام المذاهب والخروج عنها إن كان لغيرأمر ديني مثل: أن يلتزم مذهبا لحصول غرض دنيوي من مال أو جاه ونحو ذلك: فهذامما لا يحمد عليه بل يذم عليه في نفس الأمر.(مجموع الفتاوى،ج:20،ص:222)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں