بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

نا پاک احرام میں پڑھی ہوئی نمازوں اور عمرہ کا حکم


سوال

ایک ضعیف العمر صاحب حال ہی میں عمرہ کے سفر پر گئے تھے۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد انہوں نے اپنے احرام پر پاخانے کے کچھ نشانات دیکھے جو مقدارِ معفو عنہ سے زیادہ تھے۔ تاہم انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ یہ نجاست کب لگی یا کب نکلی۔ غالب گمان سے بھی کچھ واضح نہیں ہو پا رہا کہ یہ  نجاست کب لگی ہے۔ ایسی صورت میں گزارش ہے کہ درج ذیل دو امور کی وضاحت فرما دی جائے: 1. کیا ان کا عمرہ ادا ہوگیا یا اعادہ لازم ہے؟ 2. ان پر کتنی نمازوں کا اعادہ لازم ہوگا ؟

جواب

واضح رہے اگر کسی کپڑے پرنجاست غلیظہ لگی ہو اور وہ معفوعنہ مقدار سے زیادہ ہو اور اس کے بارے میں  کچھ علم نہ ہو کہ یہ نجاست کب لگی ہے اور غالب گمان سے بھی کچھ معلوم نہ ہو سکے   ،تو شرعا ایسے کپڑوں میں  پڑھی گئی نمازوں  کا اعادہ لازم نہ ہو گا۔ اسی طرح اگر کوئی اس طرح کےکپڑوں  کے ساتھ عمرہ ادا کر لے ،توعمرہ کا اعادہ اس پرلازم نہیں ہوگا۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی اپنے احرام پر پاخانے کے کچھ نشانات دیکھے جو کہ مقدارِ معفو عنہ سے زیادہ  ہو اوراسے اس بارے میں کوئی علم نہ ہو کہ یہ  نجاست کب لگی  ہے اورغالب گمان سے بھی کچھ واضح نہ ہو سکے، تو شرعا اس پر گزشتہ  نمازوں  کا اعادہ لازم نہ ہو گا۔نیز ایسے احرام  میں اگر اس نے عمرہ ادا کیا ہو،تو اس کا عمرہ ادا ہو  گیا ہےاس کی قضا لازم نہ ہوگی۔

إن ‌وجد ‌في ‌ثوبه ‌نجاسة مغلظة أكثرمن قدر الدرهم ولا يدري متى أصابته لا يعيد شيئا من صلاته بالإجماع وهو الأصح.(الفتاوى الهندية،الباب الثالث في شروط الصلاة وفيه فصول أربعة،الفصل الثاني في طهارة ما يستر به العورة وغيره،ج:1،ص:58)

ولو طاف للزيارة، ‌وفي ‌ثوبه ‌نجاسة كان مسيئا، ولا يلزمه شيء؛ لأن حكم النجاسة في الثوب أخف ألا ترى أن الصلاة مع قليل من النجاسة في الثوب تجوز، وكذلك مع النجاسة الكثيرة في حالة الضرورة فلا يتمكن بنجاسة الثوب نقصان في طوافه، وهذا بخلاف ما إذا طاف عريانا فإنه يؤمر بالإعادة.(المبسوط،كتاب المناسك،باب الطواف،ج:4،ص:39)


فتویٰ نمبر : 10826/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں