بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

انتقال کے تیسرے دن میت کے گھر اجتماعی تعزیت کا اہتمام کرنا


سوال

انتقال  کے تیسرے دن میت کے گھر والوں کے ہاں   تعزیت اور فاتحہ خوانی  کا  ااگر اس طرح  کا اہتمام  کیا جائے ،کہ سب اعزاء و اقارب جمع ہو اور وہاں ساؤنڈ سسٹم یا لاؤڈ اسپیکر لگایا جائے، باہر سے حفاظِ کرام آ کر قرآنِ کریم کی تلاوت کریں، علما و مشائخ آ کر وعظ و نصیحت کریں،اور میت کے لیے اجتماعی دعا ئے مغفرت کرلیں، اور میت کے اہلِ خانہ مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے صدقے کا بھی اہتمام کریں، تو  شریعت میں اس طرح کی تعزیت کا حکم کیا  ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ تعزیت  کا مطلب ہے میت کے گھر جا کر اہل خانہ  کو تسلی دینا ،صبر کی تلقین کرنا اور میت کے لیے مغفرت کی دعا کرنا،تعزیت  کا وقت میت کے انتقال سے لے کر تین دن تک  ہوتا ہے ،ان دنوں میں کسی بھی وقت میت کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کی جاسکتی ہے ،اور اس کے لیے کوئی خاص طریقہ  منقول نہیں ہے ،البتہ افضل  یہ ہے کہ بندہ  میت کے تدفین سے پہلے یا اگر موقع نہ ملے تو تدفین کے بعد گھر والوں کے پاس  چلا جائے،ان کو تسلی دے ،ان کی دل جوئی کرے ،میت کے حق میں دعائیہ کلمات ادا کرے  ،نیز تعزیت کے لیےاپنی طرف  کسی  خاص طریقہ کو لازم سمجھنا،یا  کسی ایک وقت کو مختص کرنا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ میں میت کے اہل خانہ کا  تعزیت کے لیے  دن کا مختص کرنا اور اس کا خاص اہتمام کرنا، شرکت نہ کرنے والوں سے ناراضگی کا اظہار کرنا  جائز نہیں ، یہ بدعت کے زمرے میں آتا ہے،البتہ اگروقت خاص کیے بغیر تیسرے دن  کچھ لوگ تعزیت میں جمع ہوجائیں،کوئی  قرآن تلاوت کرے ،یا کوئی عالم دین وعظ و نصیحت کرے اور پھر میت کے حق میں اجتماعی دعا کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

  

عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌أحدث ‌في ‌أمرنا ‌هذا ما ليس فيه فهو رد» قال ابن عيسى: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «من صنع أمرا على غير أمرنا فهو رد». (سنن أبي داود، كتاب السنة، باب في لزوم السنة، رقم الحديث:4606)

قوله )وشر الأمور محدثاتها إلخ(..... والمحدثات بفتح الدال جمع محدثة والمراد بها ما أحدث وليس له أصل في الشرع ‌ويسمى ‌في ‌عرف ‌الشرع ‌بدعة وما كان له أصل يدل عليه الشرع فليس ببدعة. (فتح الباري، كتاب الفتن، باب الاقتداء بسنن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ج:13،ص:353)

وتستحب التعزية للرجال والنساء اللاتي لا يفتن لقوله صلى الله عليه وسلم: "من عزى أخاه بمصيبة كساه الله من حلل الكرامة يوم القيامة" وقوله صلى الله عليه وسلم: "من عزى مصابا فله مثل أجره"... ‌ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام وأولها أفضل وتكره بعدها لأنها تجدد الحزن وهو خلاف المقصود منها لأن المقصود منها ذكر ما يسلي صاحب الميت ويخفف حزنه ويحضه على الصبر كما نبهنا الشارع على هذا المقصود في غير ما حديث قوله: "من حلل الكرامة" أي الدالة على تكريم الله تعالى إياه وقد حث الشارع المصاب على الصبر والاحتساب وطلب الخلف عما تلف. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، کتاب الصلاة، باب أحکام الجنائز، فصل في حملها ودفنها، ص:618)


فتویٰ نمبر : 10775/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں