بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ٹیوب ویل کرایہ پر دے کر مالک کا خود استفادہ کرنے کی شرط لگانا


سوال

اگر کسی شخص نے ٹیوب ویل لگایا ہو جو سولر سسٹم پہ چلاتا ہو، اور کوئی دوسرا شخص اس کے ساتھ اس طور پر عقد کرے کہ پانی کے عوض یا تو اس کو کھیت میں کوئی حصہ دے گا، یا زمین کا مالک ٹیوب ویل کو اجارہ پر لے کراپنی زمین کوسیراب کرنے کی اجرت ادا کرے۔ البتہ اس ٹیوب ویل کو کرایہ پر دینے کے باوجود اس کا مالک خود بھی اس سے استفادہ کرنے کی شرط لگاتا ہے کہ وہ اس سے اپنے گھر کی ٹینکی وغیرہ کو بھرےگا۔ تو ایسی صورت میں ٹیوب ویل کو متعین اجرت کے عوض کرایہ پر لینے کے باوجود اپنے فائدہ کے لیے شرط لگانا جائز ہوگا یا نہیں؟ اگر صحیح نہیں تو صحیح صورت کی طرف رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ معلوم عوض کے مقابلہ میں معلوم ومتعین منفعت کی بیع کوعقد اجارہ کہاجاتاہے، اجارہ میں عوض معلوم ہونا ضروری ہے، خواہ عوض رقم ہو، عین ہو یا کسی چیز کی منفعت کی صورت میں ہو، نیز عقداجارہ میں ایسی شرط لگانا جو عقد کا تقاضہ نہ ہو اور اس سے احدالمتعاقدین (موجر اور مستاجر میں سے کسی ایک) کو فائدہ ہو، اس سے اجارہ فاسد ہوجاتا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ پانی جب تک اپنی اصل جگہ مثلاً دریا، کنویں یا چشمے وغیرہ میں موجود ہو، اس وقت تک وہ کسی کی ملکیت میں نہیں ہوتا، بلکہ مباح شمار ہوتاہے، اس لیے دریا  یا کنویں وغیرہ میں موجود پانی کو بیچنا یا اجرت پر دینا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر کوئی شخص پانی کو برتن، ٹینک یا کسی حوض (تالاب) وغیرہ میں جمع یا محفوظ کرلے، تو وہ پانی اس شخص کی ملکیت بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ازروئے شرع اس کی خرید وفروخت کی جا سکتی ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق ٹیوب ویل کے پانی کے عوض کھیت میں کوئی حصہ لینا جائز نہیں، کیونکہ ٹیوب ویل میں موجود پانی کسی کی ملکیت نہیں، بلکہ مباح ہوتاہے۔ اسی طرح اگر ٹیوب ویل کو اجرت پر دے کر مالک خود استفادہ کی شرط لگائے، تو یہ بھی شرط فاسد ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ نیز پانی کی مقدار متعین نہیں، اور فنی خرابی کی وجہ سے کمی یا بندش کا امکان موجود ہے، جو نزاع کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے یہ صورت بھی جائز نہیں۔

اس کا صحیح طریقہ یہ ہوسکتاہے کہ ٹیوب ویل کا مالک پانی کسی حوض وغیرہ میں جمع کرکے پھر وہ پانی فروخت کرنے کا معاہدہ کرے۔ یا ٹیوب ویل کی اجرت وقت کے حساب سے مقرر کی جائے ، مثلاً ایک گھنٹہ 100 روپے کا ہو، اور پھر فصل تیار ہونے تک جتنے گھنٹے ٹیوب ویل استعمال کی گئی ہو، اسی مقدار نقد اجرت ادا کی جائے۔

 

وفي اصطلاح الفقهاء بمعنى ‌بيع ‌المنفعة ‌المعلومة في مقابلة عوض معلوم. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الإجارة، المقدمة، المادة:405، ص:79)

(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد ‌فكل ‌ما ‌أفسد ‌البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج:6، ص:46)

يشترط أن تكون الأجرة معلومة، سوآء كانت من المثليات أو من القيميات أو كانت منفعة أخرى، لأن جهالتها تفضي إلى المنازعة، فيفسد العقد.....المنفعة تكون معلومة ببيان مدة الإجارة في امثال الدار والحانوت والظئر، لأنه إذا كانت المدة معلومة كان قدر المنفعة أيضا معلوما، فإذا لم تعلم المدة كانت الإجارة فاسدة فلا يجب الأجر إلا بحقيقة الانتفاع. (شرح المجلة لسليم رستم باز اللبناني، الكتاب الثاني في الإجارة، الفصل الثالث في شروط صحة الإجارة، رقم المادة:450-452، ج:1، ص:254-255)

‌لا ‌يجوز ‌بيع ‌الماء ‌في ‌بئره ‌ونهره ‌هكذا ‌في ‌الحاوي ‌وحيلته أن يؤاجر الدلو والرشاء هكذا في محيط السرخسي فإذا أخذه وجعله في جرة أو ما أشبهها من الأوعية فقد أحرزه فصار أحق به فيجوز بيعه والتصرف فيه كالصيد الذي يأخذه كذا في الذخيرة وكذلك ماء المطر يملك بالحيازة كذا في محيط السرخسي وأما بيع ماء جمعه الإنسان في حوضه ذكر شيخ الإسلام المعروف بخواهر زاده في شرح كتاب الشرب أن الحوض إذا كان مجصصا أو كان الحوض من نحاس أو صفر جاز البيع على كل حال وكأنه جعل صاحب الحوض محرز الماء بجعله في حوضه. (الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب التاسع فيما يجوز بيعه وما لايجوز، الفصل السابع في بيع الماء والجمد، ج:3، ص:121)

مطلب صاحب البئر لا يملك الماء وقال الرملي: ‌إن ‌صاحب ‌البئر ‌لا ‌يملك ‌الماء ‌كما ‌قدمه في البحر في كتاب الطهارة في شرح قوله: وانتفاخ حيوان عن الولوالجية فراجعه، وهذا ما دام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتيال كما في السواني فلا شك في ملكه له لحيازته له في الكيزان ثم صبه في البرك بعد حيازته. تأمل. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب البيوع، باب بيع الفاسد، مطلب صاحب البئر لا يملك الماء، ج:5، ص:67)


فتویٰ نمبر : 3965/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں