بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
قتل خطا کے کفارے کا حکم
سوال
آج سےتقریبا 40 سال پہلے میرے والد صاحب اور والدہ صاحبہ ایک دیوار کو گرانے کےلیے دکا لگارہے تھے،ان کو پتہ نہیں تھا کہ اس کےاُس پار کوئی ہوگا کہ اچانک دیوار گرنے کی وجہ سےاس کے نیچے ایک بچہ دب کر مرگیا،پھر جرگہ بلایا گیا ،جرگہ والوں کی باہم مصالحت سے ان کو معاف کردیا گیاتھا،اب جب کہ میرے والداور والدہ صاحبہ کی عمریں 70،72 سال ہوچکی ہیں، جس کی وجہ سےوہ روزے رکھنے پر بھی قادر نہیں ہیں، اوراس واقعہ کو تقریبا 40سال ہوچکے ہیں، ان کےفدیے کی کیا صورت ہوگی؟
جواب
واضح رہے کہ اگر كوئی شخص کسی بےگناہ شخص کو غلطی سے قتل کرےتو اس شخص پر دیت اور کفارہ دونوں ادا کرنالازم ہے، لیکن اگر اولیا کی مصالحت سے قاتل کومعاف کیا جائے ،تو اب اس پر کفارہ دیناضروری ہے لہذاغلطی سے قتل کرنے والے پر ساٹھ(60) روزے رکھنا ضروری ہوگا اوراگر بیماری وغیرہ کی وجہ سے روزے رکھنے پر قدرت نہ ہو تو صحت ملنے کا انتظار کرکے تاخیر پر استغفار کرے،جب رکھنے کے قابل ہوجائےتو رکھ لے، اگر موت تک کفارے کے روزے رکھنے کی طاقت میسر نہ آسکے تو ان کے فدیہ کی ادائیگی کی وصیت کرے۔
صورتِ مسئولہ میں غلطی سے قتل کرنے والے شوہر اوربیوی اگر ضعفِ بدن اور بیماری وغیرہ کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتے، تو صحت ملنے کا انتظار کریں اور تاخیر پر استغفار کرتے رہیں ،جب رکھنے کے قابل ہوجائیں تو رکھ لیں،نیز اتنے بڑے عرصے تک کفارے کے روزوں سے غفلت برتنے کی وجہ سے اللہ تعالی کے حضور عجز وندامت کے ہاتھ پھیلا کر استغفار کرنا چاہیے،اور اگر موت تک کفارے کے روزے رکھنے کی طاقت میسر نہ آسکے تو ورثا کو فدیہ کی ادائیگی کی وصیت کریں۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ [النساء: 92]
والثاني كفارة القتل الخطأ وهو ان يقتل أحد مؤمنا خطأ فعليه أن يعتق رقبة مؤمنة فإن لم يستطع فصوم شهرين متتابعين وإن أفطر من غير عذر يستأنف ولا يجزيه غير ذلك فان استطاع الأول فلا يجوز له الآخر بعد أداء الدية إلى أولياء المقتول. (النتف في الفتاوى للسغدي، کتاب الصوم، کفارة القتل الخطأ، ج: 1، ص: 144)
فالإعتاق في كفارة القتل والظهار واليمين والإفطار إلا أنه في باب القتل والظهار والإفطار واجب مع التعيين عند القدرة عليه، وفي باب اليمين واجب مع التخيير. (الفتاوى الهندية، كتاب العتاق، الباب الأول في تفسير العتاق، ج: 2، ص: 2)
وموجبه على القولين الإثم والكفارة، وكفارته تحرير رقبة مؤمنة، فإن لم يجد فصيام شهرين متتابعين. (الفتاوى الهندية، كتاب الجنايات، الباب الأول تعريف الجناية...، ج: 6، ص: 3)
(والشيخ الفاني الذي لا يقدر على الصيام يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا كما يطعم في الكفارات) والأصل فيه قوله تعالى {وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين} [البقرة: 184] قيل معناه: لا يطيقونه، ولو قدر على الصوم يبطل حكم الفداء لأن شرط الخلفية استمرار العجز."(ومن مات وعليه قضاء رمضان فأوصى به أطعم عنه وليه لكل يوم مسكينا نصف صاع من بر أو صاعا من تمر أو شعير) لأنه عجز عن الأداء في آخر عمره فصار كالشيخ الفاني، ثم لا بد من الإيصاء عندنا" [قال الكمال بن الهمام تحته:] ولو وجبت عليه كفارة يمين أو قتل فلم يجد ما يكفر به وهو شيخ كبير عاجز عن الصوم أو لم يصم حتى صار شيخا كبيرا لا تجوز له الفدية لأن الصوم هنا بدل عن غيره، ولذا لا يجوز المصير إلى الصوم إلا عند العجز عما يكفر به من المال، فإن مات فأوصى بالتكفير جاز من ثلثه، وهذا ويجوز في الفدية طعام الإباحة أكلتان مشبعتان بخلاف صدقة الفطر للتنصيص على الصدقة فيها، والإطعام في الفدية. (فتح القدير، كتاب الصوم، باب ما يجوز القضاء والكفارة، فصل كان مريضا في رمضان فخاف إن صام ازداد مرضه، ج: 2، ص: 357-356)
وكون العجز سببا لوجوب الفدية علة منصوصة، لأن ترتيب الحكم على المشتق نص على علية مبدأ الاشتقاق وإن لم يكن من قبيل الصريح عندنا بل بالإشارة، وقد قال تعالى {وعلى الذين يطيقونه فدية} [البقرة: 184] أي لا يطيقونه.( فتح القدير، كتاب الصوم، باب ما يجوز القضاء والكفارة، فصل كان مريضا في رمضان فخاف إن صام ازداد مرضه، ج: 2، ص: 358)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں