بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
نشے کی حالت میں جماع کرنے سے حلالہ کا حکم
سوال
ایک عورت کو تین طلاقیں ہوئیں۔ تین طلاقوں کے بعد اس نے دوسرے آدمی سے نکاح کیا ۔ شوہر ثانی نے عورت کو نشہ دے کراس کے ساتھ جماع کیا۔کیا شوہر ثانی کے اس طرح نشے کی حالت میں کیے گئے جماع سے حلالۂ شرعیہ ثابت ہو جائے گا؟
جواب
واضح رہے کہ شریعت میں حلالہ کی حیثیت ابغض المباحات جیسی ہے ،یعنی شریعت اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی، تاہم اگر کہیں بامر مجبوری اس کی ضرورت ہو تو اس میں حلالہ کی شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ورنہ شوہر اول کے لیے عورت حلال نہ ہوگی، حلالہ کی شرائط میں سے ایک شرط حدیث مبارکہ کی رو سے یہ ہے کہ دونوں جماع کی لذت محسوس کر یں،اور چونکہ نشے کی حالت میں یہ لذت محسوس نہیں ہوتی ،اس لیے اگر نشہ کی حالت میں جماع کیا جائےتو عورت شوہر اول کے لیے حلال نہ ہوگی۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر دوسرا شوہر بیوی کو نشہ دے کر اس کے ساتھ جماع کرے تو اس سے وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوتی۔
قال الله تعالی:﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ (سورۃ البقرة ، آیت: 230)
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تحلين لزوجك الأول حتى يذوق الآخر عسيلتك وتذوقي عسيلته". (صحيح البخاري، كتاب الطلاق،باب: من قال لإمرأته: أنت علي حرام، ج:5، ص:4964)
لا يجوزلك أن ترجعي إلى رفاعة (حتى يذوق عسيلتك) والعسيلة كناية عن لذة الجماع . (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، كتاب العدة، باب الأردية، ج:21، ص:300)
لو وطئها وهي نائمة لا يحلها للأول لعدم ذوق العسيلة. (رد المحتارعلى الدر المختار، كتاب الطلاق، مطلب في حيلة إسقاط عدة المحلل، ج:3، ص:414)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں