بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ملازمین کی رضامندی کے بغیر تنخواہ سے فلاحی کٹوتی کا حکم


سوال

میں ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہوں، اور ہمارے ادارے کے سربراہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمام ملازمین کی تنخواہوں میں سے مخصوص رقم کاٹ کر سیلاب زدگان کے فنڈ میں جمع کروائی جائے۔ لیکن اکثر ملازمین اس کٹوتی پر راضی نہیں ہیں۔ کیا ادارے کے سربراہ کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ملازمین کی اجازت کے بغیر ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کرے؟

جواب

 واضح رہے کہ کسی شخص  کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں  تصرف کرنا جائز نہیں ،اس لیے صورت مسئولہ میں اگر ملازمین کی اس بات پر رضامندی نہ ہو کہ ان کی تنخواہ سے کٹوتی  کرکےسیلاب زدگان فنڈ میں جمع  کیا جائے تو ادارے کے سربراہ کے لیے  ملازمین کی اجازت کے بغیر  ان کی تنخواہ سے کٹوتی کرکے سیلاب زدگان فنڈ میں جمع کرنا  جائز نہیں ہے۔

 

 ولا يجوز التصرف في ملك الغير بغير إذنه۔(بدائع الصنائع،فصل في بيان شرائط الجواز والنفاذ،ج:1،ص:234)

إذااستوفيت المنفعة كلها لزم بدل الإيجار كله كما أنه قد يستوفي بعضها،وعلى ذالك فإذاكانت الإجارة واقعة على المدة كما في إجارةالدواب لزم المستأجر اعطاء ما يلحق المدة التي استوفى منافعها من الأجرة۔(دررالحكام شرح مجلةالأحكام،كتاب الإجارة،ج:1،ص:533)


فتویٰ نمبر : 3963/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں